ملکی معیشت نے سیلاب سے پیدا ہونے والی مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود بحالی کے اپنے سفر کو برقرار رکھا ہے، اکتوبر 2025 میں افراط زر کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کاامکان ہے، وفاقی وزارت خزانہ

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ ملکی معیشت نے سیلاب سے پیدا ہونے والی مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود بحالی کے اپنے سفر کو برقرار رکھا ہے، اکتوبر 2025ء میں افراط زر کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کاامکان ہے۔یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں بہتری …

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ ملکی معیشت نے سیلاب سے پیدا ہونے والی مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود بحالی کے اپنے سفر کو برقرار رکھا ہے، اکتوبر 2025ء میں افراط زر کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کاامکان ہے۔یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں بہتری آرہی ہے، بڑی صنعتوں بالخصوص سیمنٹ، آٹو موبائل اور دیگرمتعلقہ شعبوں نے بحالی کے عمل کو سہارا دیا ہے جبکہ برآمدات اور ترسیلات زر میں بھی بتدریج بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیرونی شعبہ مستحکم ہے اور ستمبر 2025ء میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن فاضل ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ مضبوط ترسیلات زر کی آمد ہے۔ افراط زر اگرچہ وقتی طور پر غذائی اشیاء کی فراہمی میں دبائو کے باعث متاثر ہوئی ہے لیکن توقع ہے کہ یہ مقررہ ہدف کے اندر ہی رہے گی۔رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے توسیعی فنڈ سہولت اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی سہولت کے تحت کامیاب جائزے نے پاکستان میں اصلاحات کے سمت اور دانشمندانہ معاشی نظم و نسق پر اعتماد کو مزید تقویت دی ہے، کریڈٹ ریٹنگ کی تین عالمی اداروں فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیزکی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری سے معاشی سمت اورپالیسیوں پربین الاقوامی اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نجکاری کے عمل، ڈیجیٹل گورننس اور سی پیک فیز 2.0 کے مشترکہ منصوبوں میں مسلسل پیش رفت حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ مالی نظم و ضبط، ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور پائیدار و شمولیتی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور سرحدوں کی وقتی بندش نے چند بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر دبائو ڈالا ہے تاہم توقع ہے کہ اکتوبر 2025ء میں افراط زر کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زرکاحجم 9.536ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 8.796ارب ڈالرکے مقابلہ میں 8.4فیصدزیادہ ہے،پہلی سہ ماہی میں برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر6.5فیصداوردرآمدات میں 8.3فیصدکی نموہوئی، اس مدت میں برآمدات کاحجم 7.9ارب ڈالر اوردرآمدات کاحجم 15.4ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں بالترتیب 7.4اور14.3ارب ڈالرتھا،حسابات جاریہ کے کھاتوں 594ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 502ملین ڈالر تھا تاہم ستمبرمیں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن 110ملین ڈالرفاضل ڈالر ریکارڈ کیا ،پہلی سہ ماہی میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کاحجم 568.8ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 864.6ملین ڈالرکے مقابلہ میں 34.2فیصدکم ہے، 17اکتوبر2025کوزرمبادلہ کے ملکی ذخائرکاحجم 19.9ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 18اکتوبرکو16ارب ڈالرتھا،24اکتوبر2025کوایکسچینج ریٹ 281روپے ریکارڈ کیا گیا،گزشتہ سال 24اکتوبرکوایکسچینج ریٹ277.7روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے دوماہ میں ایف بی آر کی محصولات کاحجم 2.884ٹریلین روپے رہا جوگزشتہ سال کی اسی مدت کے 2.562ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 12.5فیصدزیادہ ہے،نان ٹیکس محصولات کاحجم 2.804ٹریلین روپے رہا جوگزشتہ سال کی اسی مدت کے 341.5ارب روپے کے مقابلہ میں 721فیصدزیادہ ہے،مالی سال کے پہلے دوماہ میں مالی خسارہ کاحجم 2.123ٹریلین روپے رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 841.4ارب روپے فاضل تھا،ستمبرمیں پالیسی ریٹ 11فیصدرہا جوگزشتہ سال ستمبرمیں 17.5فیصدتھا،ستمبرمیں مہنگائی کی شرح 4.2فیصد ریکارڈ کی گئی جوگزشتہ سال ستمبرمیں 9.2فیصدتھی،بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں نموکی شرح 4.44فیصد ریکارڈ کی گئی۔24اکتوبر2025کوپاکستان سٹاک ایکسچینج کا100انڈیکس 163304پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 24اکتوبرکو88944پوائنٹس تھا،24اکتوبرکومارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 66.90ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 24اکتوبرکو41.77ارب ڈالرتھا، مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں مجموعی طورپر60.2فیصدکی نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی شرح میں 33.4فیصدکی نموہوئی ہے۔