ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر کے پیشِ نظر قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے ہیٹ ویو اور سن سٹروک سے بچاؤ، احتیاطی تدابیر اور علاج سے متعلق ہدایات جاری کر دی ہے۔ ادارے نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کو ہدایت کی ہے
ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر، قومی ادارہ صحت کی ہیٹ ویو اور سن سٹروک سے بچاؤ کیلئے ہدایات جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر کے پیشِ نظر قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے ہیٹ ویو اور سن سٹروک سے بچاؤ، احتیاطی تدابیر اور علاج سے متعلق ہدایات جاری کر دی ہے۔ ادارے نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ہیٹ سٹروک سے نمٹنے کیلئے اپنی تیاریوں اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
ایڈوائزری کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے اثرات کے باعث پاکستان میں شدید گرمی کی لہروں کی شدت اور دورانیے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال ہیٹ ویو کے اثرات اور اس سے وابستہ صحت کے خطرات بڑھ رہے ہیں جس کے نتیجے میں بیماریوں اور اموات میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔قومی ادارہ صحت نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر براہِ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں خصوصاً دن کے اوقات میں جب درجہ حرارت انتہائی بلند ہو۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ جسم میں پانی کی کمی سے بچنا ہیٹ سٹروک سے تحفظ کیلئے نہایت ضروری ہے، اس لئے شہری زیادہ مقدار میں پانی استعمال کریں اور نمکیات سے بھرپور غذا کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔شدید گرمی کے دوران سر کو ڈھانپ کر رکھا جائے، ہلکے رنگ اور ڈھیلے ڈھالے ملبوسات استعمال کئے جائیں جبکہ بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کا خصوصی خیال رکھا جائے۔قومی ادارہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو ہیٹ سٹروک اور اس کی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھیں۔ہیٹ ویو اور سن سٹروک سے متعلق مکمل ایڈوائزری قومی ادارہ صحت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔








