ملک بھر میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع میں مسلسل بہتری، اسکول حاضری 57 فیصد تک پہنچ گئی
ملک بھر میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع میں مسلسل بہتری، اسکول حاضری 57 فیصد تک پہنچ گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جون (اے پی پی):پاکستان میں طالبات کی سکول حاضری کی شرح 57 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ملک بھر میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی مواقع میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کےمطابق 10 سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین میں وہ تناسب جو کبھی نہ کبھی اسکول گئی ہیں، 2018-19 کے 50 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 57 فیصد ہو گیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں مجموعی اسکول حاضری کی شرح بھی اسی عرصے میں 61 فیصد سے بڑھ کر 67 فیصد تک پہنچ گئی۔دستاویزات کے مطابق خواتین کی تعلیم میں بہتری تمام صوبوں اور خطوں میں ریکارڈ کی گئی۔ پنجاب میں طالبات کی اسکول حاضری 59 فیصد سے بڑھ کر 65 فیصد ہو گئی جبکہ سندھ میں یہ شرح 45 فیصد سے بڑھ کر 49 فیصد تک پہنچ گئی۔
خیبر پختونخوا میں یہ تناسب 38 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد اور بلوچستان میں 24 فیصد سے بڑھ کر 34 فیصد ہو گیا، جو لڑکیوں کے لیے تعلیم تک رسائی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ بہتری خاص طور پر دیہی علاقوں میں زیادہ نمایاں رہی، جہاں طالبات کی تعلیمی شرکت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ یہ پیش رفت شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی مواقع کے فرق کو کم کرنے کی جاری کوششوں کا نتیجہ ہے۔ قومی سطح پر دیہی علاقوں میں اسکول حاضری کی شرح 2018-19 کے 53 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 59 فیصد ہو گئی۔دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کی تعلیمی قابلیت میں بہتری آئی ہے۔ 10 سال اور اس سے زائد عمر کی ان خواتین کا تناسب جنہوں نے کم از کم پرائمری تعلیم مکمل کی، 42 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو گیا۔
تمام صوبوں میں طالبات کی تعلیمی تکمیل کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے مجموعی تعلیمی نتائج بہتر ہوئے۔پاکستان کےخواندگی کے اشاریوں میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ 2024-25 میں 10 سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین میں شرح خواندگی 54 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ دیہی خواتین کی شرح خواندگی میں تمام آبادیاتی گروپوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق لڑکیوں کے لیے تعلیم تک رسائی میں اضافے نے مجموعی تعلیمی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسی عرصے کے دوران ملک میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 2023 کے 38 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 28 فیصد رہ گئی جبکہ 10 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی مجموعی شرح خواندگی 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ طالبات کی اسکول حاضری اور تعلیمی کامیابیوں میں مسلسل بہتری حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے تعلیم تک رسائی بڑھانے اور لڑکیوں کی تعلیمی نظام میں زیادہ شمولیت کو فروغ دینے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔








