اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):ملک کے مختلف بزنس لیڈرز اور چیمبرز کے صدور نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافے کیلئے ریجنل ٹریڈ پر توجہ مرکوز کرے۔پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ایران سمیت وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات میں اضافہ حکومت ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرے۔ پڑوسی ممالک،آسیان،ای سی او جیسے …
ملک بھر کے چیمبرز کا برآمدات میں اضافے کیلئے ریجنل ٹریڈ کو اہمیت دینے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):ملک کے مختلف بزنس لیڈرز اور چیمبرز کے صدور نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافے کیلئے ریجنل ٹریڈ پر توجہ مرکوز کرے۔پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ایران سمیت وسط ایشیائی ممالک کو برآمدات میں اضافہ حکومت ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرے۔ پڑوسی ممالک،آسیان،ای سی او جیسے ریجنل گروپس میں موثر لابنگ کے ذریعے پاکستانی پروڈکٹس بلخصوص ٹیکسٹائیل کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی میزبانی میں منعقدہ آل پاکستان چیمبرز پریذیڈنٹس کانفرنس میں ریجنل ٹریڈکے فروغ کے حوالے سے منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیر احمد ملک نے کہا کہ پاکستان کی اس وقت مجموعی طور پر 25بلین کی برآمدات میں سے 20بلین مغربی ممالک کو ہے۔باقی پوری دنیا کو ہم صرف تقریبا 5ًبلین تک کی ہی برآمدات کر پاتے ہیں۔حکومت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو وسط اشیائی ممالک جیسی دوسری منڈیوں تک رسائی کیلئے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت پہلے ایسے ممالک کی نشاندہی کر ے جہاں پاکستانی اشیاء کی مانگ ہے۔پھر ایک مربوط پالیسی کے ساتھ کام کیا جائے۔
مذکورہ ممالک میں پاکستانی سفارتحانوں کو متحرک کیا جائے اور خصوصی ایلچی بھجوا کر گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر کے در میان رابطہ کاری کو بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسائل کیلئے آذربائیجان سمیت دیگر وسط ایشیائی ممالک بڑی مارکیٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔اس موقع پر صدر آئی سی سی آئی احسن بختاوری نے کہا کہ جدید زمانے میں اکیلے ملک نہیں بلکہ ریجن ترقی کرتے ہیں۔یورپی یونین اور آسیان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ہمارے ریجن کیلئے سارک،ای سی او،ایس سی او کی شکل میں ایک بہترین پلیٹ فارم موجود ہے جو بد قسمتی سے بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے فعال نہیں ہو سکا۔
پاکستان اور بھارت میں حال ہی میں نئی حکومتیں تشکیل پائی ہیں۔حکومت نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ تمام علاقائی تنظیموں کو فعال کرنے کیلئے اقدمات کا آغاز کرے اور ایران اور افغانستان کے ساتھ مسائل کے حل کیلئے بھی ترجیحی بنیادوں پر کام کرے۔صدر کراچی چیمبر آف کامرس افتخار احمد شیخ نے کہا کہ حکومت ریجنل ممالک کے ساتھ تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کرے۔سڑک،ریل اور فضائی روابط کو بہتر بنایا جائے۔گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر کی رابطہ کاری کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کی سرپرستی میں مشترکہ پلیٹ فارمز تشکیل دیے جائیں۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر خرم طارق نے حکومت پر زور دیا کہ پاکستانی برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت بجلی کے ریجنل ٹیرف کے مسابق انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائے۔ہم دنیا کو پاکستانی پروڈکٹس تب ہی بیچ پائیں گے جب مقامی سطح پر انڈسٹری کی لارج سکیل اور میڈیم سکیل مینو فیکچرنگ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔








