ملک دشمن عناصر پاک فوج کو کمزور کرنے کیلئے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، فوج نہ ہوتی تو پاکستان کا حال بھی عراق، افغانستان، یمن اور شام سمیت دیگر مسلم ممالک کی طرح ہوتا،وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر پاک فوج کو کمزور کرنے کیلئے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، فوج نہ ہوتی تو پاکستان کا حال بھی عراق، افغانستان، یمن اور شام سمیت دیگر مسلم ممالک کی طرح ہوتا، سابقہ حکومتوں نے عوام کے دیئے گئے مینڈیٹ کے ساتھ کھلم کھلا بد دیانتی کی، اداروں میں اپنی پسند کے …

اسلام آباد۔3اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر پاک فوج کو کمزور کرنے کیلئے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، فوج نہ ہوتی تو پاکستان کا حال بھی عراق، افغانستان، یمن اور شام سمیت دیگر مسلم ممالک کی طرح ہوتا، سابقہ حکومتوں نے عوام کے دیئے گئے مینڈیٹ کے ساتھ کھلم کھلا بد دیانتی کی، اداروں میں اپنی پسند کے لوگوں کو بٹھا کر ایسا نیٹ ورک بنایا جو بدعنوانیوں میں ان کیلئے سہولت کاری کرتے تھے، ملک کو آگے لیکر جانے کے بجائے یہ لوگ اپنے آپ کو آگے لیکر گئے، ان لوگوں نے صرف اپنے اور اپنی فیملیز کے مفادات کیلئے لوٹ مار کی اور خوب مال بنایا، اپوزیشن جماعتوں کے قائدین بدعنوانی کیسز میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ریلیف لینے کیلئے حکومت اور قومی اداروں کو بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان نڈر لیڈر ہیں اور وہ کسی قیمت پر بدعنوان عناصر کو این آر او نہیں دیں گے، وزیراعظم عمران خان عوام کی امیدوں کا محور ہیں، عوام جانتے ہیں کہ صرف عمران خان ہی وہ لیڈر ہیں جو ملک کو درپیش مسائل اور آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسی لئے انہوں نے 2018ئ انتخابات میں وزیراعظم عمران خان کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا تھا، اپوزیشن جماعتیں اپنے قائدین کی لوٹی ہوئی دولت اور انہیں بدعنوانی مقدمات سے بچانے کیلئے عوام کا نام استعمال کر کے انہیں اور ملک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں لیکن حکومت ایسا ہونے نہیں دے گی۔ ہفتہ کو پی ٹی وی پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک کا وزیراعظم اور اس کی ساری فیملی کاروبار کرتی ہوں وہ کیسے ترقی کر سکتا ہے، سابقہ حکومتوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں سمیت عوام کی فلاح وہ بہبود کیلئے کوئی کام نہیں کئے، ان لوگوں نے ایسے منصوبے شروع کئے جن سے انہوں نے کمیشن حاصل کئے جس کی وجہ سے ملک مقروض اور عوام غریب ہوئے۔ شبلی فراز نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بزرگ سیاستدان ہیں اسلئے وہ حکومت مخالف تحریک یا اپوزیشن کے اکٹھ کی قیادت کریں گے حالانکہ ایسا نہیں ہے، مولانا فضل الرحمان شہباز شریف سے عمر میں چھوٹے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس عوام اور ملک کی بہتری کیلئے کوئی ایجنڈا نہیں ہے، یہ لوگ صرف اپنے قائدین کی لوٹی ہوئی غیرقانونی دولت اور انہیں احتساب سے بچانے کیلئے حکومت اور قومی اداروں پر دباڈالنا چاہتے ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے این آر او لینے کیلئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) قانون سازی کے دوران آخری پتا کھیل لیا ہے اب ان کے پاس کھیلنے کیلئے کوئی پتا نہیں بچا، اپوزیشن کے رویے سے وزیراعظم عمران خان مزید ثابت قدم ہو گئے ہیں اور وہ کسی صورت میں ان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا کوئی کاروبار نہیں ہے، ان کی دیانت داری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، ہمیں فخر ہے کہ ہمیں وزیراعظم عمران خان جیسا لیڈر ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان واحد سیاست دان ہیں جنہوں نے سیاست میں آنے سے قبل عوام کیلئے کینسر ہسپتال اور یونیورسٹی بنائیں اور دیگر فلاحی کاموں میں حصہ لیا، وہ ملک کیلئے درد رکھتے ہیں اور اسی لئے 22 سال طویل جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں، ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ ایسے اقدامات کریں کہ ملک ترقی کرے، وزیراعظم عمران خان کی اپوزیشن کے جمہوریت کے نام پر اکٹھے ہونے کی بات سچ ثابت ہو گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے نظام سے فائدہ اٹھایا جبکہ عوام رلتی رہی، ان لوگوں نے بیرون ممالک جائیدادیں اور اثاثے بنائے اور آج پرطعیش ماحول میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد غیرفطری ہے، ن لیگ کے اندر دراڑیں پڑ گئی ہیں اور ان کی اپنی جماعت کے لوگ نواز شریف کے بیانیے کو تسلیم نہیں کر رہے، ان کے مفادات اور ترجیحات مختلف ہیں اسلئے یہ اتحاد دیرپا نہیں ہو گا۔ شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ جو چیزیں ملک کیلئے اچھی ہوتی ہیں وہ انہیں بری لگتی ہیں، اپوزیشن کو ڈر ہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی اکثریت حاصل کر لے گی اسلئے یہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے، سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اسلئے موجودہ حکومت کو ریفارمز اور قانون سازیاں کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اقتدار میں آتے ہی اداروں کو قابو کر لیتے تھے، فوج واحد ادارہ ہے جو استعمال نہیں ہوا اسلئے انہیں ہمیشہ خلش رہی ہے، موجودہ حکومت کے مقاصد واضح ہیں اسلئے تمام ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، حکومت ملک کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط کرنے کے علاوہ اداروں کو اپنے پا ئوں پر کھڑا کرنے کیلئے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے، اپوزیشن جماعتیں جس قسم کا بھی پروپیگنڈا کریں حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں بالخصوص طور پر ن لیگ کے قائدین کی حکمت عملی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے حکومت ناکام ہو جائے تاکہ یہ لوگ دوبارہ اقتدار میں آ کر لوٹ کھسوٹ کر سکیں اور بدعنوانی مقدمات سے بچ سکیں، کوویڈ 19بحران کے دوران شہباز شریف لندن سے فوراً واپس آئے کہ ملک میں لاشوں کے ڈھیر لگیں گے، معیشت بیٹھ جائے گی اور حکومت گر جائے گی لیکن وزیراعظم عمران خان کی کامیاب حکمت سے ان کی خواہش ادھوری رہ گئی۔ شبلی فراز نے کہا کہ موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری بڑھے تاکہ معیشت مستحکم ہو، دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں عوام کا نام لیکر عوام اور ملک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں، حکومت کوشش کرے گی کہ اپوزیشن کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے معیشت متاثر ہو۔ نواز شریف کی تقریر پر پابندی لگانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیمرا نے سابق وزیراعظم کی تقریر نشر کرنے پر پابندی لگائی ہے، وزیراعظم عمران خان نے تو ان کی تقریر نشر کرنے کی اجازت دی تھی۔مولانا آج کل سیر تفریح کر رہے ہیں جو کہ ان کی صحت کیلئے اچھا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے کسی ساتھی کی گرفتاری کا علم نہیں ہے