ملک میں برداشت، احترامِ انسانیت، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری، مکالمے اور پر امن حل کی حمایت کی ہے، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی کا بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب

ملک میں برداشت، احترامِ انسانیت، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری، مکالمے اور پر امن حل کی حمایت کی ہے، قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی کا بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد۔8ستمبر (اے پی پی):قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے ملک میں برداشت، احترامِ انسانیت، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پُرامن، متحد اور مضبوط پاکستان کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔احترام انسانیت ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے، پاکستان ایک کثیر المذاہب معاشرہ ہے اور ہمارے آئین نے تمام شہریوں کو مساوی حقوق ، مذہبی آزادی اور تحفظ فراہم کیا ہے، احترام انسانیت، رواداری اور امن کا تصور صرف ہماری داخلی صورتحال تک محدود نہیں، پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری، مکالمے اور پر امن حل کی حمایت کی ہے، پاکستان امن چاہتا ہے، امن کے لیے کھڑا ہے اور خطے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا،پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مضبوط دفاع کا مقصد جنگ کو فروغ دینا نہیں بلکہ امن، خود مختاری، علاقائی استحکام اور اپنے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ’’احترام انسانیت، دفاع پاکستان اور پیغام پاکستان کا فروغ‘‘ کے عنوان سے بین الاقوامی امن و بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس کا انعقاد انٹر فیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمنی اور مجلس علماء پاکستان کے زیر اہتمام کیا گیا۔ کانفرنس میں چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف، صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب سردار رمیش سنگھ اروڑہ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان، چیئر مین انٹر لائف منسٹریز سینئر پاسٹر انور فضل، بانی اور سینئر پاسٹرسٹی ہارویسٹ چرچ پاسٹر کونگ ہی ،علماء و مشائخ اور پارلیمنٹیرنیز نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے یوم بحریہ پر شرکا ءکو دلی مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ آج کی یہ قومی بین الاقوامی امن و بین المذاہب ہم آہنگی کا نفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب دنیا کو امن، برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کو محض ایک دستاویز تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قومی عزم و عہد میں تبدیل کرنا ہوگا، تاکہ برداشت، احترامِ انسانیت، امن، صبر، رواداری، قبولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہماری روزمرہ قومی زندگی کا حصہ بن سکیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ کانفرنس کا موضوع ”احترام انسانیت، دفاع پاکستان اور پیغام پاکستان کا فروغ “ دراصل ہمارے قومی تشخص، ہماری دینی اقدار اور ہماری ریاستی ذمہ داریوں کے تین اہم پہلوئوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے،میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس اہم قومی موضوع پر تمام طبقات کو یکجا کیا، مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد اور ان کے خاندان کی بین المذاہب ہم آہنگی ، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے خدمات قابل تحسین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احترام انسانیت ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے، اسلام نے انسان کی عزت، جان و مال اور بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے، رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ ہمیں مختلف مذاہب اور طبقات کے ساتھ عدل، رواداری ، حسن سلوک اور پر امن بقائے باہمی کا عملی نمونہ فراہم کرتی ہے، اس حوالے سے میثاق مدینہ ہمارے لیے ایک روشن تاریخی مثال ہے، ریاست مدینہ میں مختلف مذہبی اور قبائلی طبقات کو ایک اجتماعی نظم میں شامل کیا گیا اور ان کے حقوق ، ذمہ داریوں اور باہمی تحفظ کے اصول طے کیے گئے ، یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں مختلف عقائد اور شناختوں کے حامل افراد کو عزت، تحفظ اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہو، یہی وہ اصول ہیں جو پاکستان کے تصور اور آئینی ڈھانچے میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں، پاکستان ایک کثیر المذاہب معاشرہ ہے اور ہمارے آئین نے تمام شہریوں کو مساوی حقوق ، مذہبی آزادی اور تحفظ فراہم کیا ہے۔

قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جہاں ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا مکمل حق حاصل ہو۔ہماری اقلیتی برادریاں پاکستان کی تعمیر وترقی میں ہمیشہ شریک رہی ہیں۔ تعلیم ، صحت ، دفاع ، سیاست، معیشت ، سماجی خدمت اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی خدمات ہمارے قومی اثاثے کا حصہ ہیں۔ اس لیے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ محض ایک آئینی ذمہ داری نہیں بلکہ ہماری دینی ، اخلاقی اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔اسی قومی ذمہ داری کو مضبوط بنانے میں پارلیمان کا کردار نہایت اہم ہے۔ سینیٹ وفاق کی علامت اور تمام صوبوں کی نمائندگی کرنے والا ایوان ہے، اس کا کردار قانون سازی کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی ، رواداری ، مکالمے اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے تحفظ کو فروغ دینا ہے۔اسی جذبے کے تحت سینیٹ مینارٹی کاکس کا قیام ایک اہم پارلیمانی اقدام ہے۔

اس کا مقصد اقلیتی برادریوں کے مسائل اور حقوق کو موثر انداز میں اجاگر کرنا، ان کی پارلیمانی شرکت کو مضبوط بنانا اور قومی فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی آواز کو مزید موثر بنانا ہے، ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان کا ہر شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب ، مسلک یا طبقے سے ہو، خود کو ریاست اور معاشرے کا برابر کا حصہ محسوس کرے۔ انہوں نے کہا کہ احترام انسانیت، رواداری اور امن کا یہ تصور صرف ہماری داخلی صورتحال تک محدود نہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری، مکالمے اور پر امن حل کی حمایت کی ہے۔ حالیہ امریکہ ایران تنازع کے دوران بھی پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سفارتی رابطوں اور مشاورت کے ذریعے امن اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے موقف کو آگے بڑھایا۔ یہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان علاقائی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔اسی تناظر میں حالیہ مکہ مکرمہ دفاعی معاہدہ بھی بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مضبوط دفاع کا مقصد جنگ کو فروغ دینا نہیں بلکہ امن، خود مختاری، علاقائی استحکام اور اپنے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ دفاع ہماری ضرورت ہے لیکن امن ہماری منزل ہے تا ہم امن کی خواہش کے ساتھ اپنی سرزمین ، خود مختاری اور عوام کا دفاع کرنا بھی ہماری ریاستی ذمہ داری ہے۔

قائمقام صدر نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی ، انتہا پسندی اور بدامنی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان دشمن عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں ہمارے قومی اتحاد اور امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔فتنہ الہندوستان جیسے چیلنجز کے مقابلے میں ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلسل قربانیاں دی ہیں۔ آپریشن شعبان سمیت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی اور بدامنی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھی ہماری مسلح افواج نے عزم، نظم و ضبط ، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی جذبے کا شاندار مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں اپنے شہداء اور غازیوں کو خصوصی خراج عقیدت پیش کرنا چاہوں گا جنہوں نے وطن کے دفاع اور امن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ان کی قربانیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے دفاع کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا پر امن ، متحد اور مضبوط معاشرہ تشکیل دینا بھی ہے جہاں نفرت، انتہا پسندی اور تقسیم کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔اسی لیے قومی سلامتی اور قومی یکجہتی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جب قوم متحد ہوا اور سیاسی و عسکری قیادت قومی مفاد کے ایک مشترکہ مقصد پر متفق ہو تو پاکستان بڑے سے بڑے مسائل کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

قائمقام صدر نے کہا کہ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو صرف خراج عقیدت تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں پائیدار امن، قومی اتحاد اور مضبوط پاکستان کی بنیاد بنائیں، ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے، مذہبی شناخت تقسیم کا ذریعہ نہ ہو اور مکالمہ ہماری قومی روایت کا حصہ بنے۔اس مقصد کے حصول میں علماء و مشائخ ، مذہبی رہنمائوں، پارلیمان، میڈیا ، سول سوسائٹی اور بالخصوص نو جوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ہمیں پیغام پاکستان کو صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک قومی عہد بنانا ہوگا۔ ایسا عہد جو مذہبی رواداری، احترام انسانیت، امن، برداشت، اعتدال اور بین المذاہب ہم آہنگی کو ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ بنائے ۔آیئے ہم سب مل کر اس عزم کا اعادہ کریں کہ پاکستان کو نفرت نہیں بلکہ محبت، تصادم نہیں بلکہ مکالمے، تقسیم نہیں بلکہ اتحاد اور انتہا پسندی نہیں بلکہ اعتدال کا مرکز بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، امن کے لیے کھڑا ہے اور خطے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ ہم مضبوط پاکستان متحد پاکستان اور پر امن پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔سید یوسف رضا گیلانی نے تمام منتظمین کو کانفرنس کے انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میری دعا ہے کہ یہ اجتماع محض ایک کا نفرنس نہ رہے بلکہ قومی امن ، بین المذاہب ہم آہنگی ، احترام انسانیت اور پیغام پاکستان کے فروغ کی ایک مستقل تحریک کا نقطہ آغاز بنے۔

چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور چیئرمین انٹرفیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمنی مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور پیغام پاکستان کا فروغ وقت کی اشد ضرورت ہے، مشرق وسطیٰ کشیدگی کے خاتمے اور پوری دنیا میں قیام امن کیلئے پاکستان کا کردار سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کا داعی بن کر ابھرا ہے جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام انتہا پسندی اور دہشت گردی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا، اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل کہا ہے اور ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان ملک کا وہ عظیم بیانیہ ہے جس نے انتہا پسند قوتوں کی کمر کو توڑ دیا ہے اور آج پوری دنیا میں اس بیانیہ کو سراہا جارہا ہے، اس پیغام کو ہم ہر گھر کی آواز بنا دیں گے۔ مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ علماء اور بین المذاہب رہنماء،مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے حوالے سے اپنا عظیم کردار اداکریں، آج پوری قوم اور بین المذاہب راہنما پاکستان کی سلامتی و تحفظ کیلئے اپنی بہادر مسلح افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر شخص کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور عالمی امن کے قیام و استحکام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احترامِ انسانیت تمام مذاہب کی مشترکہ قدر ہے۔سٹی ہارویسٹ چرچ کے بانی پادری کانگ ہی نے پاکستان اور اس کے عوام سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر سطح پر اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے مصیبت زدہ انسانوں کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنے اور نفرت کے خلاف متحد ہو کر امن کے فروغ کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے پر زور دیا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس نے کہا کہ انسانیت کی خدمت تمام مذاہب کی مشترکہ قدر ہے۔ انہوں نے پاکستانی قوم کو امن کے سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا جاتا۔انہوں نے پاکستان میں مذہبی سیاحت کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مذہبی ورثے اور سیاحتی استعداد کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے پہلی مرتبہ مذہبی سیاحت کانفرنس کے انعقاد کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے خدمات اور گراں قدر کردار ادا کرنے والی شخصیات میں امن ایوارڈز بھی تقسیم کیے۔