اسلام آباد ۔05 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ ملکی معاملات میں شفافیت کے فروغ سے رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں، ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے، 2030ء تک 60 فیصد سے زائد بجلی متبادل توانائی کے وسائل سے بنائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوریا کے سفیر کواک سنگ کیو سے ملاقات کے دوران …
وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان کی کوریا کے سفیر سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔05 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ ملکی معاملات میں شفافیت کے فروغ سے رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں، ملک میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار ہے، 2030ء تک 60 فیصد سے زائد بجلی متبادل توانائی کے وسائل سے بنائی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوریا کے سفیر کواک سنگ کیو سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں توانائی، ٹیکنالوجی منتقلی اور ایک دوسرے کے تجربے اور مہارت سے سیکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے توانائی کے شعبے میں حکومت کی طرف سے گئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام معاملات میں شفافیت برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے، شفافیت کے فروغ سے رکاوٹیں دور ہو رہی ہیں اور ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول مہیا ہوگیا ہے۔انہوں نے کورین کمپنیوں کا گل پور اور آٹھ مقام میں ہائیڈرو پراجیکٹس پر سراہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کورین کمپنیوں کی طرف سے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی اور عملی اقدامات پر شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے متبادل توانائی کے بارے کورین سفیر کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 2030 تک ساٹھ فیصد سے زیادہ بجلی ان وسائل سے بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کئی یورپین ممالک، چین اور دیگر مما لک پاکستان میں سولر پینل، ونڈ ٹربائن بنانے کی فیکٹریاں پاکستان میں لگانے کیلئے کام کر رہی ہیں۔ کورین کمپنیاں بھی پاکستان میں یہ فیکٹریاں لگا سکتی ہیں کیونکہ مستقبل میں نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ملک کر بر آمد کرنے کے بھی خاصے مواقع ہیں۔ وفاقی وزیر نے تمام سرمایہ کاروں کو یکساں کاروباری سہولیات دینے کا اعادہ کیا۔ تمام اداروں کو خصوصی ہدایات دیں گئیں ہیں کہ ہر طرح کا تعاون ایک چھت کے نیچے فراہم کیا جائے۔ اس موقع پر کورین سفیر نے پاور ڈویژن کے حالیہ اقدامات کو سراہا جن کی وجہ بہت سارے پاور پراجیکٹس مکمل ہوئے ہیں۔ کورین سفیر نے بتایا کہ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد کورین کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش مند ہیں اور پاکستان کے انرجی سیکٹر کے متعلق تمام معلومات اکھٹا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے انرجی سیکٹر دنیا کے چوٹی کے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔








