ملک میں سیاسی قوتوں کو ایک بار پھر میثاق جمہوریت کی طرف آنا ہو گا، آزاد کشمیر کی صورتحال کا حل بات چیت سے نکالا جائے، مولانا فضل الرحمن

ملک میں سیاسی قوتوں کو ایک بار پھر میثاق جمہوریت کی طرف آنا ہو گا، آزاد کشمیر کی صورتحال کا حل بات چیت سے نکالا جائے، مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی قوتوں کو ایک بار پھر میثاق جمہوریت کی طرف آنا ہو گا، ملک میں امن و امان اور دیگر حالات کے حوالے سے ایوان کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، آزاد کشمیر کی صورتحال کا حل بات چیت سے نکالا جائے، وہاں پر ہر کشمیری کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے، بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی اور ایران امریکاجنگ رکوانے کیلئے پاکستان کی ثالثی کو سراہتے ہیں، ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے حق میں ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ معیشت پاکستان کا مسئلہ ہے، ہمیں دور رس صلاحات کی طرف جانا چاہئے تھا ، اس وقت ہر پاکستانی 3 لاکھ 25 ہزار روپے کا مقروض ہے، اس ساری صورتحال میں غریب آدمی بنیادی اشیاء خورد و نوش سمیت اپنی آمدن میں یوٹیلٹی بلز بھی دیتا ہے، بچوں کی تعلیم اور صحت کے لئے بھی اسے رقم چاہئے، وہ اس تنخواہ میں کیسے گزارہ کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک کے امن وامان کی صورتحال خراب ہے، سندھ میں کچے کے ڈاکوئوں کا مسئلہ ہے جبکہ ہمارے ہاں تھانوں، سکیورٹی فورسز پر حملے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر اصل حقائق سامنے لانے اور ارکان کو آگاہ کرنے کے لئے ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ہر شہری کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا تھا آج وہاں جو صورتحال نظر آرہی ہے وہ تشویشناک ہے،اس صورتحال پر غور وفکر کریں اور ان کیمرہ اجلاس کرکے حقائق بتائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کے خلاف جنگ میں فتح کو ہم نے سب سے پہلے سراہا، اس کامیابی پر پوری قوم ایک صف میں کھڑی تھی اور فوج کی پشت پر تھی،ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کو ہم نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے بھی بات چیت کی ضرورت ہے،ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے حق میں ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھ پر تین خودکش حملے ہوئے،میرے بچوں اور پارٹی کے لیڈروں پر حملے ہوئے، اس کے باوجود ہمیں اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کو دیکھا جائے اس میں کونسا نکتہ ہے کہ اس پر بات چیت نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بات کرنے پر علما شہید کئے جارہے ہیں، آئین قرآن وسنت کے نفاذ کی بات کرتا ہے اس پر پیشرفت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسی ایوان میں 2028 سے سود کے خاتمے کی ترمیم کئی گئی ہے تاہم اس کی جانب کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اس ایوان میں زیر بحث لانے کی قانون سازی ہوئی تاہم آج تک ایک سفارش بھی یہاں زیر بحث نہیں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین بھٹو نے دیا، مفتی محمود،خان عبدالولی خان، بزنجو نے اس پر دستخط کئے، چھوٹے صوبوں نے اس کو قبول کیا تھا،اس کا حلیہ بدل دیا گیا، این ایف سی ایوارڈ میں یہ طے پایا کہ صوبے کے حق کو بڑھایا جاسکتا ہے کم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا ہمیں ملک کے اندر استحکام کی طرف جانا چاہئے ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ اپوزیشن لیڈر کو میں نے سپورٹ کیاہے،وزیر اعظم نے اس ایوان میں اپنی تقریر میں میثاق جمہوریت کی بات کی، ماضی میں پی پی اور (ن )لیگ کے درمیان تلخ تاریخ کا خاتمہ میثاق جمہوریت پر ہوا ،ہم نے اس پر دستخط نہیں کئے تھے تاہم بعد میں سب نے اس کو سپورٹ کیا، آج وہ ایک متفقہ دستاویز ہے، اس میں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کی بات تھی ، آئیں دوبارہ میثاق جمہوریت کی طرف بڑھیں،ان کیمرہ اجلاس بلائیں،پی ٹی آئی کی طرف سے کوئی رخنہ نہیں ڈالا جائے گا میں اس کا ضامن بنوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مسائل ہیں،امن وامان،معیشت کے مسائل ہیں،ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو معمول پر لانے کی ضرورت ہے، صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے آگے کام کرنا ہوگا۔