فیصل آباد۔ 25 نومبر (اے پی پی):ملک میں ترشاوہ پھل کی کاشت کا رقبہ تقریباً 194 ہزار ہیکٹر سے کم ہو کر 156 ہزار ہیکٹر رہ گیاہے تاہم جدید طریقوں اور رجحانات کے باعث ترشاوہ پھلوں کی پیداوار برقرار ہے جبکہ پاکستان میں مٹی اور موسمی حالات کی مناسبت کے باعث ترشاوہ پھلوں کی صنعت کی توسیع کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اورہائی ایفی شنسی اریگیشن سسٹم جیسے کہ …
ملک میں مٹی اور موسمی حالات کی مناسبت کے باعث ترشاوہ پھلوں کی صنعت کی توسیع کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے ، ماہرین

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 25 نومبر (اے پی پی):ملک میں ترشاوہ پھل کی کاشت کا رقبہ تقریباً 194 ہزار ہیکٹر سے کم ہو کر 156 ہزار ہیکٹر رہ گیاہے تاہم جدید طریقوں اور رجحانات کے باعث ترشاوہ پھلوں کی پیداوار برقرار ہے جبکہ پاکستان میں مٹی اور موسمی حالات کی مناسبت کے باعث ترشاوہ پھلوں کی صنعت کی توسیع کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اورہائی ایفی شنسی اریگیشن سسٹم جیسے کہ ڈِرِپ اریگیشن ترشاوہ سیکٹر میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسزجامعہ زرعیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد ستار خاں نے کہا کہ ہائی ایفی شنسی اریگیشن سسٹم پانی اور غذائی اجزا کو براہ راست جڑوں تک پہنچا کر ایک مؤثر حل فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر سٹرس کے بیماریوں سے بچاؤ کیلئے نرسری اور سرٹیفیکیشن سسٹم کو متعارف کروانا ناگزیر ہے۔
ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں صوبہ پنجاب میں سٹرَس کی کاشت کے رقبے میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کی وجوہات میں باغات کی ناقص دیکھ بھال، بیماریوں کا حملہ، ہاؤسنگ سوسائٹیز کا پھیلاؤ، بعد از برداشت ذخیرہ کرنے کے مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹرَس دنیا بھر میں اہم پھلوں کی فصلوں میں سے ایک ہے اور 140 سے زائد ممالک میں کاشت ہوتی ہے۔ عالمی سٹرَس پیداوار کا نصف سے زائد حصہ مالٹے پر مشتمل ہے۔
گزشتہ دہائی میں پاکستان کی سٹرَس انڈسٹری میں پیداواری رجحانات میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ماہرین نے کہا کہ پانی کی قلت کے چیلنجز کے پیش نظر سٹرس پیداوار کے لیے ہائی ایفی شنسی آبپاشی نظام اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک بالغ سٹرس پودے کو سالانہ18ہزارسے 28ہزار لیٹر پانی درکار ہوتا ہے جبکہ ڈِرِپ اریگیشن سسٹم میں یہ ضرورت صرف 6سے 9ہزارلیٹر رہ جاتی ہے۔ جعفر ایگرو سروسز کے منیجر ہارٹیکلچر محمد عرفان نواز اور سینئر زونل منیجر شاہد اقبال نے بھی اس حوالے سے اظہار خیال کیا۔








