ملک کی اقتصادی بحالی کاسفر جاری ہے، صنعتی بڑھوتری سے کاروباری اعتماد میں اضافہ کی عکاسی ہورہی ہے،وزارت خزانہ

اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی) کورونا وائرس کی وبا کے معاشی اورسماجی اثرات کوکم کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے امدادی اورمعاونتی پیکجز سے اقتصادی اورسماجی سطح پربہترنتائج سامنے آرہے ہیں، ان اقدامات کی وجہ سے سٹیٹ بینک نے حالیہ زری پالیسی میں جاری مالی سال میں اندازوں سے زیادہ اقتصادی بڑھوتری کی پیشن گوئی کی ہے۔ وزارت خزانہ کی طرف سے مارچ 2021 کیلئے جاری کردہ اقتصادی اپ ڈیٹ …

اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی) کورونا وائرس کی وبا کے معاشی اورسماجی اثرات کوکم کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے امدادی اورمعاونتی پیکجز سے اقتصادی اورسماجی سطح پربہترنتائج سامنے آرہے ہیں، ان اقدامات کی وجہ سے سٹیٹ بینک نے حالیہ زری پالیسی میں جاری مالی سال میں اندازوں سے زیادہ اقتصادی بڑھوتری کی پیشن گوئی کی ہے۔

وزارت خزانہ کی طرف سے مارچ 2021 کیلئے جاری کردہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق جولائی سے لیکرفروری 2021 تک کی مدت میں سمندرپارکام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں کی ترسیلات زرمیں مجموعی طورپر24.1 فیصداضافہ ہواہے، اس عرصہ میں پاکستانی کارکنوں نے 18.7 ارب ڈالرکازرمبادلہ ملک ارسال کیا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 15.1 ارب ڈالررہاتھا، جاری مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں برآمدات میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 2.3 فیصدکی کمی ہوئی جبکہ اس کے برعکس درآمدات میں 8.6 فیصداضافہ ہوا،

حسابات جاریہ کے کھاتوں کے توازن میں 0.9 ارب ڈالرکااضافہ ہوا، جی ڈی پی کی مناسبت سے حسابات جاریہ کے کھاتوں میں 0.5 فیصدکااضافہ ریکارڈکیاگیاہے، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں جاری مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 29.9 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی ہے، جاری مالی سال میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 1.300 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 1.854 ارب ڈالررہاتھا، پورٹ فولیوسرمایہ کاری کا حجم منفی 132.2 ملین ڈالررہا، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں پورٹ فولیوسرمایہ کاری کاحجم 2.161 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا، مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 911.9ملین ڈالررہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3.989 ارب ڈالرتھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق 18 مارچ 2021 کوزرمبادلہ کے ذخائر کاحجم 20.313 ارب ڈالرکی سطح پرہے، گزشتہ سال 18 مارچ کوزرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 18.269 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔18 مارچ کوایکسچینج ریٹ 155.45روپے تھا، گزشتہ سال اسی تاریخ کوایکسچینج ریٹ 158.52 روپے تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈالرکے مقابلہ میں پاکستانی کرنسی کی قدرمیں اضافہ ہواہے۔وزارت خزانہ کے مطابق محصولات کے شعبہ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جولائی سے لیکرجنوری 2021 تک کی مدت میں ایف بی آر نے 2915 ارب روپے کی وصولیاں کیں جوگزشتہ مالی سال کی اسی عرصہ کے مقابلہ میں 6 فیصدزیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ایف بی آر کی وصولیوں کاحجم 2750 ارب روپے تھاتاہم نان ٹیکس ریونیومیں اس عرصہ کے دوران 1.7 فیصد کی کمی ہوئی ہے، جاری مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں نان ٹیکس ریونیوکاحجم 941 ارب روپے ریکارڈکیاگیا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 957 ارب روپے تھا۔کوویڈ 19 کی وبا کے باوجود حکومت نے ملک بھرمیں ترقیاتی منصوبوں پرکام کوجاری رکھا، سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 5 مارچ تک 479.2 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے گئے یہ شرح گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 3 فیصد زیادہ ہے،

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 465.3 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے گئے تھے۔ وزارت خزانہ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 7 ماہ مین مالیاتی خسارہ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جولائی سے لیکرجنوری تک کی مدت میں مالیاتی خسارہ کاحجم 1309 ارب روپے ریکارڈکیاگیا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں مالیاتی خسارہ کاحجم 1430 ارب روپے ریکارڈکیاگیاتھا، پرائمری بیلنس گزشتہ مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے 153 ارب روپے کے مقابلہ میں بڑھ کر416 ارب روپے ہوگیا۔وزارت خزانہ کے اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں زرعی قرضوں کے اجرا میں 2.9 فیصداضافہ ہوا، جولائی سے لیکرفروری 2021 تک کی مدت میں 806.4 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کئے گئے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت مین 783.8 ارب روپے کے قرضوں کااجراکیاگیاتھا۔نجی شعبہ کوقرضوں کی فراہمی میں جاری مالی سال کے دوران 49.4 فیصدکانمایاں اضافہ ہواہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں نجی شعبہ کو244.9 ارب روپے کے قرضے جاری کئے گئے،

جاری مالی سال میں 5 مارچ تک نجی شعبہ کوجاری کردہ قرضوں کاحجم 365.9 ارب روپے ریکارڈکیاگیا۔گزشتہ سال 17مارچ کوپالیسی ریٹ 12.5 فیصد تھا، رواں سال 19 مارچ کوپالیسی ریٹ 7 فیصد ہے۔سالانہ بنیادوں پرعام آدمی کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں کمی ریکارڈکی گئی ہے، گزشتہ سال فروری میں صارفین کیلئے قیمتوں کاحساس اشاریہ 12.4 فیصد تھا جو رواں سال فروری میں 8.7 فیصد ریکارڈکیاگیا۔وزارت خزانہ کے مطابق ملک میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں زبردست تیزی دکھائی دے رہی ہے، مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں ملک میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں 9.1 فیصد اضافہ ہواہے۔کیپٹل مارکیٹس میں بھی تیزی کاعمومی رحجان ہے، رواں سال 18 مارچ تک پاکستان سٹاک مارکیٹ کے انڈکس میں 28.19 فیصداضافہ،مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 20.27 فیصد اورنئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 37.30 فیصداضافہ ہواہے