ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی پیداواری صلاحیت 49,651 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے جس میں تھرمل توانائی کا حصہ 49.2 فیصد، ہائیڈل 23.4 فیصد، قابلِ تجدید ذرائع 20.3 فیصد اور نیوکلیئر توانائی 7.1 فیصد شامل ہیں۔ جمعرات کو جاری قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں 92,835 گیگاواٹ آور بجلی پیدا کی گئی۔
ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی پیداواری صلاحیت 49,651 میگاواٹ تک پہنچ گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی پیداواری صلاحیت 49,651 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے جس میں تھرمل توانائی کا حصہ 49.2 فیصد، ہائیڈل 23.4 فیصد، قابلِ تجدید ذرائع 20.3 فیصد اور نیوکلیئر توانائی 7.1 فیصد شامل ہیں۔ جمعرات کو جاری قومی اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں 92,835 گیگاواٹ آور بجلی پیدا کی گئی۔
مجموعی پیداوار میں تھرمل ذرائع کا حصہ 46.9 فیصد، ہائیڈل 30.1 فیصد، نیوکلیئر 18.5 فیصد جبکہ قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 4.5 فیصد رہا۔اسی عرصے میں ملک میں بجلی کی مجموعی کھپت 83,143 گیگاواٹ آور ریکارڈ کی گئی۔ گھریلو صارفین نے سب سے زیادہ 47.4 فیصد بجلی استعمال کی جبکہ صنعتی شعبے کا حصہ 31.5 فیصد، کمرشل شعبے کا 8.4 فیصد اور زرعی شعبے کا 3.1 فیصد رہا۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملک کے 3,530 میگاواٹ مجموعی پیداواری صلاحیت کے حامل چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس نے جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران 17,137 ملین یونٹس بجلی قومی گرڈ کو فراہم کی جس سے توانائی کے شعبے میں نیوکلیئر ذرائع کا کردار مزید مضبوط ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی طلب جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران 3.5 فیصد بڑھ گئی جبکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر نے مجموعی طلب کا 82.5 فیصد استعمال کیا۔ جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات بڑھ کر 13,641.7 ہزار ٹن ہو گئیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 13٫174.7 ہزار ٹن تھیں۔
قدرتی گیس اور آر ایل این جی کی کھپت جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران بالترتیب 2,316 ایم ایم سی ایف ڈی اور 613 ایم ایم سی ایف ڈی رہی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ بالترتیب 2,345 ایم ایم سی ایف ڈی اور 798 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔کوئلے کی کھپت جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران بڑھ کر 21.41 ملین ٹن ہو گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 16.17 ملین ٹن تھی۔








