ممتاز سیاستدان و صحافی پیر علی محمد راشدی کی برسی ہفتے کو منائی گئی

اسلام آباد۔14مارچ (اے پی پی):ممتاز سیاستدان، صحافی، مورخ، سفارت کار اور ادیب پیر علی محمد راشدی کی برسی ہفتہ 14 مارچ کو منائی گئی۔ وہ تحریک پاکستان کے کارکن اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے تاریخی قرارداد پاکستان کی ڈرافٹنگ میں بھی حصہ لیا۔ پیر علی محمد راشدی سندھ کے ممتاز مورخ، محقق اور فارسی ادبیات کے ماہر حسام …

اسلام آباد۔14مارچ (اے پی پی):ممتاز سیاستدان، صحافی، مورخ، سفارت کار اور ادیب پیر علی محمد راشدی کی برسی ہفتہ 14 مارچ کو منائی گئی۔ وہ تحریک پاکستان کے کارکن اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے تاریخی قرارداد پاکستان کی ڈرافٹنگ میں بھی حصہ لیا۔ پیر علی محمد راشدی سندھ کے ممتاز مورخ، محقق اور فارسی ادبیات کے ماہر حسام الدین راشدی کے بڑے بھائی ہیں۔

وہ 5 اگست 1905کو لاڑکانہ کے گاؤں بہمن کے مشہور روحانی گھرانے راشدی خاندان میں پیر سید حامد شاہ راشدی کے گھر پیدا ہوئے۔ انھوں نے کسی سکول یا کالج سے تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ گھر پر ہی عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔

پیر علی محمد راشدی تعلیم کے بعد صحافت کے پیشے سے وابستہ ہو گئے۔علی محمد راشدی قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی اور تحریک پاکستان میں ان کے شانہ بشانہ رہے، خود قائد اعظم ان کے بہت معترف تھے۔

ان کا قلم حق و صداقت کی پاسداری کرتا تھا۔ پیر علی محمد راشدی کی مشہور تصانیف میں رودادِ چمن (اردو)،اھے ڈینھن اھے شینھن (سندھی)،فریاد سندھ (سندھی)،چین جی ڈائری (سندھی)،ون یونٹ کی تاریخ (اردو)، SINDH: WAYS AND DAYS (انگریزی) شامل ہیں۔پیر علی محمد راشدی 14 مارچ 1987 کو کراچی میں وفات پاگئے اور سندھی مسلم جماعت کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

پیر علی محمد راشدی کی برسی کے موقع پر علمی، ادبی، صحافتی اور سفارتی سمیت سماجی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

مزید خبریں