وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ 15 برس کے دوران اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے، اس لیے موثر عوامی خدمات اور پائیدار ترقی کے لیے اختیارات اور وسائل مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا ہوں گے۔وہ بدھ کو ’’انٹیگریٹڈ لینڈ اینڈ واٹر یوز پلاننگ‘‘ کے حوالے سے قومی افتتاحی ورکشاپ اور ٹیکنیکل ورکنگ …
موثر عوامی خدمات اور پائیدار ترقی کے لیے اختیارات اور وسائل مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا ہوں گے، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ 15 برس کے دوران اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے، اس لیے موثر عوامی خدمات اور پائیدار ترقی کے لیے اختیارات اور وسائل مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا ہوں گے۔وہ بدھ کو ’’انٹیگریٹڈ لینڈ اینڈ واٹر یوز پلاننگ‘‘ کے حوالے سے قومی افتتاحی ورکشاپ اور ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کے آغاز سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اختیارات کی منتقلی مسئلہ نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا دائرہ صوبائی سطح پر رک گیا ہے۔
2010ء میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اہم اختیارات منتقل کیے گئے تاہم مقامی حکومتوں کو اسی تناسب سے اختیارات اور وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ اگر مقامی حکومت کو کوئی ذمہ داری تو دے دی جائے لیکن اس کے ساتھ اختیارات اور وسائل نہ ہوں تو وہ ذمہ داری بوجھ بن جاتی ہے۔ اختیارات صوبوں سے اضلاع اور بلدیاتی حکومتوں تک بھی منتقل ہونے چاہئیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ایسا ترقیاتی نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطہ اور مقامی اداروں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ قومی ترجیحات کو بہتر عوامی خدمات اور عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بالخصوص زراعت کے لیے انتہائی اہم ہے جو قومی معیشت، روزگار، غذائی تحفظ اور برآمدات کا اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان اپنے زرعی وسائل کے باوجود سالانہ تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو زرعی درآمدات پر انحصار ختم کرکے پیداواری صلاحیت میں اضافے اور زمین و پانی کے وسائل کے موثر استعمال کے ذریعے فوڈ ایکسپورٹنگ اکانومی بننا ہوگا۔وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ بے ہنگم شہری پھیلائو سے زرعی زمین کا تحفظ کیے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت اور خوراک ہوا میں نہیں اگتی، زراعت اور خوراک زمین پر اگتی ہے۔انہوں نے سرگودھا کے کینو کے باغات، ملتان کے آم کے باغات اور گوجرانوالہ کے گردونواح میں اعلیٰ معیار کے باسمتی چاول پیدا کرنے والے علاقوں کو غیر منصوبہ بند شہری پھیلائو سے محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
احسن اقبال نے کہا کہ زرعی زمین اور شہری ترقی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا جس کے لیے شواہد پر مبنی لینڈ یوز پلاننگ اور شہروں کی بے ہنگم افقی توسیع کے بجائے عمودی ترقی کو فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ غذائی وسائل پر دبائو بڑھا رہا ہے جبکہ فی کس پانی کی دستیابی میں کمی نے پانی کے تحفظ کو بھی ایک سنگین چیلنج بنا دیا ہے۔وفاقی وزیر نے خوراک، زمین اور پانی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبوں پر مشتمل مربوط قومی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بکھری ہوئی کوششوں سے پائیدار نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال کو منظم کرنے، آبی ذخائر کی پائیدار صلاحیت کا جائزہ لینے اور زیر زمین پانی کی دوبارہ بھرائی کے اقدامات کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔احسن اقبال نے کہا کہ سولر پمپس نے زیر زمین پانی نکالنا آسان بنا دیا ہے جس کے باعث اس کے موثر ضابطے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹیگریٹڈ لینڈ اینڈ واٹر یوز پلاننگ کا اقدام زرعی زمین کے تحفظ، شہری پھیلائو کے انتظام اور ملک کی مستقبل کی غذائی و آبی ضروریات کے تحفظ کے لیے شواہد پر مبنی فریم ورک تیار کرنے میں مدد دے گا۔وفاقی وزیر نے اس اقدام کو حکومت کے فائیو ایز فریم ورک سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ غذائی اور آبی تحفظ ایک مستحکم، پائیدار اور بلند شرح نمو کی حامل معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ملک کو درپیش وسیع تر ترقیاتی چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بڑے اور بلند حوصلہ منصوبے بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے تاہم اصل مسئلہ ان منصوبوں پر عملدرآمد کا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم منصوبے بنانا نہیں جانتے، ہم بہت اچھے منصوبے بنا سکتے ہیں، لیکن ہمارا مسئلہ ان پر عمل کرنا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم موڑپر کھڑا ہے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ترقیاتی حکمت عملیوں پر موثر عملدرآمد اور اجتماعی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہم یا تو تیر سکتے ہیں یا ڈوب سکتے ہیں، تیسرا کوئی راستہ نہیں۔ لہٰذا ہمیں تیرنا ہوگا۔








