پاکستان اورنیوزی لینڈکے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے،وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی نیوزی لینڈکے ہائی کمشنرسے ملاقات میں گفتگو

پاکستان اورنیوزی لینڈکے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے،وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی نیوزی لینڈکے ہائی کمشنرسے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان اورنیوزی لینڈکے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے، پالیسیوں کا تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات اقتصادی سمت کو برقرار رکھنے کے لیے بدستور اہم رہیں گی۔

انہوں نے یہ بات بدھ کویہاں پاکستان میں نیوزی لینڈ کے نامزد ہائی کمشنر ڈیوڈ پائن سے ملاقات میں کہی،ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر نیوزی لینڈ ہائی کمیشن کی پالیسی و پبلک افیئرز ایڈوائزر اوانتی کالانسوریا اور پاکستان کے لیے نیوزی لینڈ کے اعزازی قونصل جنرل معین ایم فودا بھی موجود تھے۔ ہائی کمشنرڈیوڈ پائن نے یورو بانڈ کے حالیہ اجرا ءکے ذریعے پاکستان کی عالمی کیپٹل مارکیٹ میں کامیاب واپسی پر وزیر خزانہ کو مبارکباد دی اور کلی معیشت کے استحکام اور اقتصادی اصلاحات کے میدان میں پاکستان کی پیش رفت کو سراہا،انہوں نے وزیر خزانہ کو پاکستان اور وسیع تر جنوبی ایشیائی خطے کے ساتھ روابط مزید مستحکم کرنے کے لیے نیوزی لینڈ کے نکتہ نظر اور ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے کلی معیشت کےاستحکام کے حصول میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب حکومت کی توجہ اصلاحات کے عمل کو برقرار رکھتے ہوئے سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب بڑھنے پر مرکوز ہے ،پالیسیوں کا تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات اس اقتصادی سمت کو برقرار رکھنے کے لیے بدستور اہم رہیں گی۔ ملاقات میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان بزنس ٹوبزنس روابط کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ڈیوڈ پائن نے دونوں ممالک کے کاروباری طبقوں کے درمیان براہ راست روابط قائم کرنے اور باہمی تجارتی مفادات کے حامل شعبوں کی نشاندہی کی اہمیت اجاگر کی انہوں نے کہا کہ تجارت سے متعلق امور کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ دوطرفہ تجارتی مذاکرات کو فروغ دینا بھی ضروری ہے، وزیر خزانہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ میں نجی شعبے کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے ، حکومت ضروری سازگار ماحول اور سہولت کاری فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ باضابطہ تجارتی معاہدے پہلے سے جاری کاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری روابط کی بنیاد مستحکم کاروباری تعلقات ہی سے قائم ہوگی۔ ملاقات میں نیوزی لینڈ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور اسکالرز کی بڑی تعداد، بالخصوص زراعت سے متعلق شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کا بھی ذکر ہوا ،وزیر خزانہ نے کہا کہ ایسے تعلیمی مواقع کو پاکستان میں عملی نتائج سے جوڑنے کی ضرورت ہے، جس میں تربیت یافتہ افراد کی وطن واپسی اور ان کے علم و مہارت سے ملک میں استفادہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ٹیکنالوجی اور جدت طرازی سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیرخزانہ نے نئی معیشت، خصوصاً ڈیجیٹل خدمات، ٹیکنالوجی اور نوجوان افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی اور فری لانسنگ کا شعبہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں ملک تیز رفتار ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم روایتی برآمدی شعبوں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری رہنی چاہئیں۔ ڈیوڈ پائن نے کہا کہ نیوزی لینڈ مختلف شعبوں، خصوصا ایگرو ٹیک اور نجی شعبے کے باہمی تعاون کے دیگر شعبوں میں مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر خزانہ نے نیوزی لینڈ کے ساتھ تجارتی و اقتصادی روابط میں حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ دلچسپی کو تجارت، سرمایہ کاری، علم اور مہارت کے شعبوں میں ٹھوس شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کی سطح پر مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ نیوزی لینڈ کے نامزد ہائی کمشنر نے وزیر خزانہ کی جانب سے تعاون اور رابطے کو سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی تعلقات مزید مستحکم کرنے میں نیوزی لینڈ کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کاروباری روابط بڑھانے اور عملی تعاون کے مواقع کی نشاندہی کے لیے مسلسل مذاکرات کی حمایت کا اظہار کیا۔

 

مزید خبریں