اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت بدعنوانی کے معاملات میں زیروٹالرنس پالیسی رکھتی ہے، پائلٹس کو جعلی لائسنسز جاری کرنے والے عناصر کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی، انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اسلئے جعلی لائسنس رکھنے والے دوبارہ جہاز نہیں اڑا سکیں گے۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے …
موجودہ حکومت بدعنوانی کے معاملات میں زیروٹالرنس پالیسی رکھتی ہے، پائلٹس کو جعلی لائسنسز جاری کرنے والے عناصر کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی، وفاقی وزیرہوابازی غلام سرور خان کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت بدعنوانی کے معاملات میں زیروٹالرنس پالیسی رکھتی ہے، پائلٹس کو جعلی لائسنسز جاری کرنے والے عناصر کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی، انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اسلئے جعلی لائسنس رکھنے والے دوبارہ جہاز نہیں اڑا سکیں گے۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نام نہاد جمہوریت کی چیمپئن سابقہ حکومتوں نے پی آئی اے اور اسٹیل ملز سمیت دیگر قومی اداروں کو تباہ کیا، انہوں نے مختلف اداروں میں میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں کیں، نظام کو شفاف کرنے کیلئے ابھی مزید وقت لگے گا۔ غلام سرور خان نے کہا ہے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن سے جعلی ڈگری اور غیرقانونی بھرتیوں سمیت دیگر شکایات کی وجہ سے 608 لوگوں کو نکالا جا چکا ہے جن میں پائلٹس، انجنیئرز اور ٹیکنیشنز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اس پر قائم ہوں کہ 262 پائلٹس کی ڈگریاں مشکوک تھیں، انکوائری بورڈ نے جو نمبرز مجھے دیئے وہی میں نے کابینہ اور ایوان میں پیش کئے، اب تک 161 کے قریب پائلٹس کو شوکاز نوٹسز جاری کئے گئے ہیں جبکہ 28 پائلٹس کے نہ صرف لائسنسز منسوخ کئے گئے ہیں بلکہ انہیں نوکریوں سے بھی برخاست کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر ہوابازی نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے اداروں کو سیاست کی نذر کیا، انہوں نے نااہل لوگوں کو نوکریاں دے کر قومی اداروں کو تباہ کیا، وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے زیروٹالرنس رکھتے ہیں، اگر سول ایوی ایشن کے لوگ ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پائلٹ کسی دوسرے کی جگہ امتحان دینے میں ملوث پایا گیا تو وہ بھی جوابدہ ہو گا۔ غلام سرور خان نے کہا کہ سول ایوی ایشن کے لائسنس ٹھیک تھے لیکن انہیں غلط طریقے سے حاصل کیا گیا، اگر جعلی لائسنس بنے ہیں تو اس کا ذمہ دار سول ایوی ایشن ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاونین خصوصی اور مشیروں کی طرف سے اثاثے ظاہر کرنے کا سہرا وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے۔








