اکستان کرکٹ بورڈ کے ہائی پرفارمنس سینٹر کے ڈائریکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں ٹیسٹ کرکٹ دنیا بھر کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف شیڈول اور مختلف فارمیٹس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باعث کھلاڑیوں کو طویل دورانیے کی کرکٹ کے لیے مستقل طور پر تیار رکھنا آسان نہیں رہا۔ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے …
موجودہ دور میں ٹیسٹ کرکٹ ایک چیلنج بن چکی ہے ،عاقب جاوید

مزید خبریں
لاہور۔13جون (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہائی پرفارمنس سینٹر کے ڈائریکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں ٹیسٹ کرکٹ دنیا بھر کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف شیڈول اور مختلف فارمیٹس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باعث کھلاڑیوں کو طویل دورانیے کی کرکٹ کے لیے مستقل طور پر تیار رکھنا آسان نہیں رہا۔ہفتہ کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید کرکٹ میں حالات پہلے کے مقابلے میں کافی تبدیل ہوچکے ہیں۔
ماضی میں غیر ملکی دوروں سے قبل ٹیموں کو متعدد پریکٹس میچز کھیلنے کا موقع ملتا تھا جس سے کھلاڑی مقامی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو جاتے تھے،تاہم اب مصروف شیڈول کی وجہ سے ایسی سہولت کم ہوتی جا رہی ہے۔اسی لیے کھلاڑیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رکھیں تاکہ کسی بھی وقت قومی ذمہ داری نبھانے کے قابل ہوں۔عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کو ایک طویل عرصے کے بعد مسلسل پانچ ٹیسٹ میچز کھیلنے کا موقع مل رہا ہے،جو کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ٹیم کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا اور کھلاڑی اپنی کارکردگی کے ذریعے ٹیم کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔انہوں نے ہائی پرفارمنس پروگرام کے حوالے سے بتایا کہ مجموعی طور پر49 کھلاڑی مختلف کیمپوں میں شامل ہیں۔ان میں سے22 کھلاڑیوں کی توجہ ٹیسٹ کرکٹ کی تیاری پر مرکوز ہے جبکہ دیگر کھلاڑیوں کو ایشیئن گیمز اور وائٹ بال کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق تربیت دی جا رہی ہے تاکہ ہر فارمیٹ کے لیے الگ اور موثر افرادی قوت تیار کی جاسکے۔
انہوں نے نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی چار یا پانچ نئے کرکٹرز کو ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے تو عموما ان میں سے دو یا تین کھلاڑی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ان کے مطابق یہ ایک فطری عمل ہے اور یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ تمام نئے کھلاڑی بیک وقت بین الاقوامی سطح پر خود کو منوا لیں۔عاقب جاوید نے مزید بتایا کہ موجودہ تربیتی کیمپ کے اختتام پر سلیکشن کے عمل کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور کارکردگی کی بنیاد پر مزید چند کھلاڑیوں کو وائٹ بال فارمیٹ کی تیاریوں کے لیے بھی طلب کیا جاسکتا ہے،تاکہ مستقبل کے ایونٹس اور بین الاقوامی سیریز کے لیے بہترین دستیاب کھلاڑیوں کا انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔








