موٹروے ٹول ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ مواصلات کی وزارت کے طے شدہ سالانہ میکانزم کے تحت کیا گیا ہے، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے منگل کو سینیٹ کو بتایا کہ موٹروے ٹول ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ مواصلات کی وزارت کے طے شدہ سالانہ میکانزم کے تحت کیا گیا ہے۔سوال و جواب کے سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سالانہ 10 فیصد اضافہ ایک مقررہ معیار کے مطابق کیا جاتا ہے جس سے شفافیت اور یکسانیت …

اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے منگل کو سینیٹ کو بتایا کہ موٹروے ٹول ٹیکس میں 10 فیصد اضافہ مواصلات کی وزارت کے طے شدہ سالانہ میکانزم کے تحت کیا گیا ہے۔سوال و جواب کے سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سالانہ 10 فیصد اضافہ ایک مقررہ معیار کے مطابق کیا جاتا ہے جس سے شفافیت اور یکسانیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ وفاقی حکومت کا مستقل پالیسی فیصلہ ہے اور کوئی نجی آپریٹر یا کنٹریکٹر اپنی مرضی سے ریٹ تبدیل نہیں کر سکتا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کا موٹروے نیٹ ورک خطے کے مقابلے میں اعلیٰ معیار کا حامل ہے اور ٹول ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کو سڑکوں کی اپ گریڈیشن، دوبارہ قالین بچھانے اور سروس ایریاز کی بہتری پر خرچ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں اسلام آباد۔لاہور موٹروے پر دوبارہ کارپٹ بچھائی گئی ہے۔ضمنی سوالات کے جواب میں انہوں نے وضاحت کی کہ سرکاری ٹیرف کے علاوہ کوئی "اضافی ٹول” وصول کرنے کی اجازت نہیں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی رپورٹ ہوئی تو اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ موٹروے کے حصے مرمت کے عمل میں ہیں اور جلد بحال کر دیے جائیں گے۔