مکہ مکرمہ،حج 2026 کی تیاریاں مکمل؛ رائل کمیشن اور میڈیا اتھارٹی کا عالمی صحافیوں کے لیے جمرات، مشاعرِ مقدسہ اور ام القریٰ یونیورسٹی کا خصوصی دورہ

مکہ مکرمہ،حج 2026 کی تیاریاں مکمل؛ رائل کمیشن اور میڈیا اتھارٹی کا عالمی صحافیوں کے لیے جمرات، مشاعرِ مقدسہ اور ام القریٰ یونیورسٹی کا خصوصی دورہ

مکہ مکرمہ۔12مئی (اے پی پی):حج 2026 کے عظیم الشان اجتماع سے قبل سعودی عرب کی حکومت نے دنیا بھر کے میڈیا نمائندوں کو حج انتظامات اور مقاماتِ مقدسہ کی روحانی و تاریخی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی میڈیا ٹور کا اہتمام کیا۔ رائل کمیشن برائے مکہ سٹی و مشاعرِ مقدسہ اور جنرل اتھارٹی فار میڈیا ریگولیشن کے اشتراک سے منعقدہ اس دورے میں پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک کے صحافیوں نے جمرات، میدانِ عرفات، مزدلفہ اور ام القریٰ یونیورسٹی کا مشاہدہ کیا۔

وفد نے منیٰ میں ‘جمرات پل’ کا معائنہ کیا، جہاں یومیہ لاکھوں حجاج کی محفوظ رمی کے لیے 5 منزلہ جدید ڈھانچہ فعال ہے۔ یہ پل فی گھنٹہ 3 سے 5 لاکھ حجاج کی گنجائش رکھتا ہے، جہاں بھگڈر سے بچاؤ کے لیے آمد اور روانگی کے راستے مکمل طور پر الگ ہیں۔

شدید گرمی کے پیشِ نظر یہاں جدید ‘مسٹ کولنگ سسٹم’ نصب ہے جو درجہ حرارت کو 29 ڈگری پر برقرار رکھتا ہے۔میڈیا نمائندوں کو میدانِ عرفات میں جبلِ رحمت ،مسجدِ نمرہ کا دورہ کرایا گیا۔ 65 میٹر بلند جبلِ رحمت وہی تاریخی مقام ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا تھا۔

"الحج عرفہ” کے نبوی فرمان کے پیشِ نظر، اس سال پورے مشعر میں ‘اسمارٹ ہجوم مینجمنٹ ٹیکنالوجی’ استعمال کی جا رہی ہے جو زائرین کی نقل و حرکت کا لمحہ بہ لمحہ تجزیہ کرتی ہے۔

بعد ازاں وفد نے مزدلفہ کا دورہ کیا جہاں ہجوم کو منظم کرنے کے لیے جدید مانیٹرنگ سیلز قائم کیے گئے ہیں۔دورے کے آخری مرحلے میں صحافیوں نے ام القریٰ یونیورسٹی کے ‘مرکزِ مخطوطات’ کا معائنہ کیا، جہاں آٹھویں صدی ہجری کے قدیم مصاحف، ہرن کی کھال پر لکھے گئے خطِ کوفی کے شاہکار اور 20 ہزار سے زائد تاریخی دستاویزات محفوظ ہیں۔

یونیورسٹی نے ان نایاب علمی نوادرات کو جدید سائنسی لیبارٹریز میں محفوظ کرنے کے بعد اب عالمی محققین کے لیے ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔اس موقع پر پاکستانی میڈیا کے نمائندوں نے خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے فراہم کردہ عالمی معیار کی سہولیات کو سراہا۔

صحافیوں کا کہنا تھا کہ جدید انفراسٹرکچر اور قدیم اسلامی ورثے کے درمیان بہترین توازن سعودی وژن 2030 کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مکہ مکرمہ لاکھوں عازمین کے استقبال کے لیے پوری طرح تیار ہے۔