پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ بھارت کی جانب سے90 ہزار بھارتی فوجیوں کا استعمال کرتے ہوئے 5 اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا اقدام ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔
جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے ، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔6اگست (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ بھارت کی جانب سے90 ہزار بھارتی فوجیوں کا استعمال کرتے ہوئے 5 اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا اقدام ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔
یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے گزشتہ روز سلامتی کونسل میں ’’دہشت گردی کے اقدامات سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات‘‘کے موضوع پر ہونے والے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن 5 اگست افسوسناک دن ہےجب بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں نافذ کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 7 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خطرے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے درمیان قریبی تعاون اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دن کشمیری عوام جو گزشتہ سات دہائیوں سے ناانصافی، محرومی، ادھورے وعدوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے انکار کا سامنا کر رہے ہیں، کو جبر کی ایک نئی لہرِ کا نشانہ بنے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر سمیت ہر اس مقام پر، جہاں غیر ملکی قبضہ موجود ہو، ریاستی دہشت گردی کے ایسے اقدامات کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ انسدادِ دہشت گردی کے نام پر غیر ملکی قبضے کے خلاف عوام کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور جائز جدوجہد اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو دبانے کے لیے اس کا غلط استعمال کیا جائے۔ افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں ایسا ماحول پیدا ہوا ہے جس میں دہشت گرد تنظیمیں ہمسایہ ریاست کے ساتھ پاکستان میں حملے کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان (ISIL-K)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں کو افغانستان کے اندر محفوظ ٹھکانے میسر ہیں۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ طالبان اس بات کے پابند ہیں کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو دوسرے ممالک، خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ انہوں نے دہشت گرد گروہوں کی معاونت، مالی امداد اور اسلحہ فراہم کرنے والے بیرونی سپانسرز کو بھی جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ داعش سے لاحق خطرہ اب بھی سنگین ہے۔ کوئی بھی ملک تنہا سرحد پار دہشت گردی کے خطرے کا موثر مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سرحدی انتظام کو مزید موثر بنانے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت، ورچوئل اثاثوں (Virtual Assets) اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہونے والی فنڈنگ کو روکنے کی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف ایک جامع، مربوط اور عالمی کوششوں ذریعے ہی ممکن ہے، جس میں دوہرے معیار یا امتیازی رویے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ اس کے لیے دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور ایسے سیاسی مقاصد پر مبنی ایجنڈوں کی روک تھام بھی ضروری ہے جو حالات کا فائدہ اٹھا کر دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔







