سپریم کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہے کہ ثالثی (میڈی ایشن) کو عدالتی نظام کا حصہ بنانا تنازعات کے حل کے لئے دستیاب راستوں کو وسعت دینے کی جانب اہم قدم ہے جبکہ سپریم کورٹ اے ڈی آر کمیٹی کے چیئرمین جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ میڈی ایشن سائلین کو بروقت، کم خرچ اور مؤثر ریلیف کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے
میڈی ایشن سے تنازعات کا جلد، کم خرچ اور باہمی رضامندی سے حل ممکن ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):سپریم کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہے کہ ثالثی (میڈی ایشن) کو عدالتی نظام کا حصہ بنانا تنازعات کے حل کے لئے دستیاب راستوں کو وسعت دینے کی جانب اہم قدم ہے جبکہ سپریم کورٹ اے ڈی آر کمیٹی کے چیئرمین جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ میڈی ایشن سائلین کو بروقت، کم خرچ اور مؤثر ریلیف کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں پہلے کورٹ اینیکسڈ میڈی ایشن سینٹر کے افتتاح کے موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے انصاف کے نظام میں متبادل تنازعاتی حل کے جامع نظام کے قیام کے سفر پر روشنی ڈالی۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ میڈی ایشن غیر ضروری مقدمات میں کمی، تنازعات کے جلد حل اور عدالتی وسائل کو ان معاملات پر مرکوز رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے جن کے لئے باقاعدہ عدالتی فیصلے ضروری ہیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کا پہلا کورٹ اینیکسڈ میڈی ایشن سینٹر یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے جہاں مناسب نوعیت کے مقدمات میں فریقین کو عدالت کی معاونت سے ثالثی کے ذریعے تنازعات حل کرنے کا باقاعدہ پلیٹ فارم دستیاب ہو گا۔ افتتاحی تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی، سپریم کورٹ کے معزز ججز، سپریم کورٹ اے ڈی آر کمیٹی اور اے ڈی آر ٹاسک فورس کے ارکان، پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر، یو این ڈی پی کے نمائندگان، سیکرٹری وزارت قانون و انصاف، چیئرمین ایف بی آر، وزارت خارجہ کے نمائندے، وکلا، منظور شدہ ثالثین اور سپریم کورٹ کے افسران نے شرکت کی۔سپریم کورٹ اے ڈی آر کمیٹی کے سربراہ جسٹس شاہد وحید، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے یورپی یونین کے سفیر اور یو این ڈی پی پاکستان کے نمائندے کے ہمراہ چیف جسٹس کی موجودگی میں میڈی ایشن سینٹر کی افتتاحی تختی کی نقاب کشائی کی۔سینٹر کے پائیدار اور مؤثر آپریشن کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کئے گئے جس کے تحت تکنیکی معاونت، استعداد کار میں اضافے اور آپریشنل معاونت فراہم کی جائے گی۔کورٹ اینیکسڈ میڈی ایشن سینٹر کا مقصد غیر ضروری عدالتی بوجھ کم کرنا، تنازعات کے جلد حل کو ممکن بنانا، فریقین کے باہمی تعلقات برقرار رکھنا اور عدالتی وسائل کو ان مقدمات کے لئے مختص کرنا ہے جن میں باقاعدہ عدالتی فیصلے کی ضرورت ہو۔یہ اقدام سپریم کورٹ کے عوامی مرکزیت پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد انصاف کی فراہمی کو بروقت، کم خرچ، قابل رسائی اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بناتے ہوئے زیادہ مؤثر اور عوام دوست عدالتی نظام تشکیل دینا ہے








