نئی دہلی،مودی حکومت کے پرائیویسی قانون کیخلاف میڈیا اداروں کا سپریم کورٹ سے رجوع

بھارت میں مودی حکومت کے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی متنازع شقوں کے خلاف 21 میڈیا اداروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سپریم کورٹ نے میڈیا اداروں کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو میڈیا گروپس کے خدشات پر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا

نئی دہلی ۔27اکتوبر (اے پی پی):بھارت میں مودی حکومت کے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی متنازع شقوں کے خلاف 21 میڈیا اداروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سپریم کورٹ نے میڈیا اداروں کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو میڈیا گروپس کے خدشات پر تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کے نجی زندگی کے حقوق اور پریس کی آزادی کے درمیان توازن قائم کرنا ہو گا۔

میڈیا اداروں کی نمائندگی کرنے والی ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ مودی حکومت کا نیا پرائیویسی قانون میڈیا پر پیشگی سنسرشپ مسلط کرنے اور نیوز رومز بند ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔درخواست گزاروں کے مطابق قانون کی متنازعہ شقیں تحقیقاتی صحافت کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ درخواست دائر کرنے والے اداروں میں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کی ملکیت والے میڈیا اداروں کے علاوہ این ڈی ٹی وی اور سی این این نیوز 18 بھی شامل ہیں۔قانون پر عمل درآمد مئی 2027ءسے شروع ہوگا۔

 

مزید خبریں