نئی دہلی۔26جنوری (اے پی پی):بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف دارلحکومت نئی دہلی میں ہونے والا پر تشدد احتجاج بارے کسان یونینز نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر مودی حکومت نے تینوں زرعی قوانیں واپس نہیں لیے تو وہ یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔کسانوں کی تنظیم متحدہ کسان مورچہ نے اپنے ایک بیان میں …
نئی دہلی میں ہونے والا پر تشدد احتجاج بارے کسان یونینز نے لاتعلقی کا اظہار، یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کا اعلان

مزید خبریں
نئی دہلی۔26جنوری (اے پی پی):بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف دارلحکومت نئی دہلی میں ہونے والا پر تشدد احتجاج بارے کسان یونینز نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر مودی حکومت نے تینوں زرعی قوانیں واپس نہیں لیے تو وہ یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔کسانوں کی تنظیم متحدہ کسان مورچہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود کچھ دیگر تنظیمیں اور کچھ غیر سماجی عناصر، اب تک پر امن رہنے والی تحریک میں شامل ہو گئے، انہوں نے ہمارے راستے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے قابل مذمت اقدامات کیے ہیں۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ امن ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسی حرکتوں سے تحریک کو نقصان پہنچتا ہے۔ادھر ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دلی سے واپس لوٹ آئیں۔انھوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کسانوں کی سنیں اور ملک کے مفاد میں زراعت کے خلاف قانون کو واپس لے لیں۔ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’دلی میں مناظر حیران کن ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے کیے گئے پرتشدد اقدامات ناقابل قبول ہیں، اس سے پرامن کسانوں کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا،کسان لیڈروں نے بھی اس سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور ٹریکٹر ریلی معطل کر دی ہے۔ میں تمام حقیقی کسانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دلی سے نکل آئیں‘‘۔عام آدمی پارٹی نے بھی دلی میں کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ افسوس ناک بات ہے کہ وفاقی حکومت نے حالات کو اس حد تک متاثر ہونے دیا۔عام آدمی پارٹی نے بیان جاری کیا کہ تحریک گزشتہ دو ماہ سے پر امن طریقے سے جاری تھی۔ کسان راہنماؤں نے کہا ہے کہ جو لوگ آج تشدد کے لیے ذمہ دار تھے وہ تحریک کا حصہ نہیں تھے بلکہ باہر سے آنے والے عناصر تھے۔ وہ جو بھی تھے، تشدد نے یقینی طور پر تحریک کو کمزور کیا ہے، جو اب تک اتنے امن اور ڈسپلین کے ساتھ چل رہی تھی۔بھارت کےمرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا تھا کہ کسانوں کو یوم جمہوریہ کے موقع پر ریلی نہیں کرنی چاہیے تھی اور وہ کسی اور دن یہ ریلی کر سکتے تھے،اس دوران کسان یونیینز نے اعلان کر رکھا ہے کہ اگر حکومت نے تینوں زرعی قوانیں واپس نہیں لیے تو وہ یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔مجموعی طور پر یہ اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، ان کی قیمت کا تعین اور ان کے ذخیرہ کرنے سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں ہیں۔نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہو گی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لیے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں۔پرانے طریقہ کار میں صرف حکومت کے متعین کردہ ایجنٹ ہی کسانوں سے ان کی پیداوار خرید سکتے تھے اور کسی کو یہ اجازت حاصل نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان قوانین میں ’کانٹریٹک فارمنگ‘ کے قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کو وہی اجناس اگانا ہوں گی جو کسی ایک مخصوصی خریدار کی مانگ کو پورا کریں گی، کسانوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی پیداوار کو منڈی کی قیمت پر نجی خریداروں کو بیچ سکیں گے۔ ان میں زرعی اجناس فروخت کرنے والی بڑی کمپنیاں، سپر مارکیٹیں اور آئن لائن پرچون فروش شامل ہیں۔اس وقت انڈیا میں کسانوں کی اکثریت اپنی پیداوار حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی منڈیوں میں ایک طے شدہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔یہ منڈیاں کسانوں، بڑے زمینداروں، آڑھتیوں اور تاجروں کی کمیٹیاں چلاتی ہیں جو کسانوں اور عام شہریوں کے درمیان زرعی اجناس کی ترسیل، ان کو ذخیرہ کرنے اور کسانوں کو فصلوں کے لیے پیسہ فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اس سے آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جائے گا۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انھیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے اور سودے بازی کرنے کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔








