نئے بھرتی ہونے والے مجاز افسران و انسپکٹرز کے لیے اورینٹیشن اور آن بورڈنگ تربیتی پروگرام 11 ستمبر تک اسلام آباد اور کراچی میں جاری رہے گا،ترجمان پی اے آر سی
نئے بھرتی ہونے والے مجاز افسران و انسپکٹرز کے لیے اورینٹیشن اور آن بورڈنگ تربیتی پروگرام 11 ستمبر تک اسلام آباد اور کراچی میں جاری رہے گا،ترجمان پی اے آر سی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):قومی زرعی تجارت و غذائی تحفظ اتھارٹی (این اے ایف ایس اے) اور سی اے بی آئی کی تکنیکی معاونت اور متعلقہ قومی اداروں کے تعاون سے نئے بھرتی ہونے والے مجاز افسران و انسپکٹرز کے لیے اورینٹیشن اور آن بورڈنگ تربیتی پروگرام 11 ستمبر تک اسلام آباد اور کراچی میں جاری رہے گا۔ ترجمان پی اے آر سی کے مطابق پروگرام کا مقصد پاکستان میں پودوں کی صحت، غذائی تحفظ اور زرعی تجارت سے متعلق ریگولیٹری ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں انجام دینے کے لیے ضروری عملی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
اس پروگرام میں 18 ماڈیولز شامل ہیں، جن میں پودوں کی صحت سے متعلق ضوابط، سینیٹری و فائٹو سینیٹری ( ایس پی ایس ) تقاضوں کی تعمیل، پیسٹ رسک انالیسس ( پی آراے), انسپیکشن اور قرنطینہ، غذائی تحفظ، کیڑے مار ادویات کے ضوابط، لیبارٹری نظام، نگرانی، ہنگامی صورتحال کا انتظام اور برآمدی سرٹیفکیشن شامل ہیں۔ نافسا ( NAFSA )اپنے نئے انسپیکشن عملے کی شمولیتی تربیت کے حصے کے طور پر پروگرام کی قیادت کر رہی ہے، جبکہ CABI اور دیگر تکنیکی شراکت دار اپنے اپنے شعبوں میں مہارت اور عملی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ اور چیئرمین، بورڈ آف گورنرز نافسا ، احمد عمیر نے کہا کہ نئی افرادی قوت کا انتخاب ایک دستاویزی اور کمیٹی کی نگرانی میں مکمل ہونے والے بھرتی کے عمل کے ذریعے کیا گیا ہے جبکہ افسران و انسپکٹرز واضح طور پر متعین عملی اور معاونتی ڈھانچوں کے تحت کام کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ کارکردگی، دیانتداری، درست دستاویزات اور ٹیکنالوجی پر مبنی آپریشنز اتھارٹی کے کام کی بنیاد ہوں گے، جبکہ مربوط نظام نگرانی، جوابدہی اور خدمات کی یکساں فراہمی میں معاون ہوں گے۔ احمد عمیر نے نافساکے کردار کو پاکستان کی وسیع تر زرعی تجارتی حکمتِ عملی سے بھی منسلک کرتے ہوئے ہم آہنگ معیارات، مؤثر سرٹیفکیشن اور کسانوں، برآمد کنندگان اور بین الاقوامی تجارتی شراکت داروں کے لیے سہولت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومتی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل تعاون، تکنیکی مہارت، علاقائی روابط اور عملی ٹولز تک رسائی کو نافسا کی تربیتی پروگرام کے دوران اور اس کے بعد معاونت کے لیے اہم قرار دیا۔
نافسا کی زیرِ قیادت پروگرام کے تحت CABI خصوصی تکنیکی مہارت، ماہر ریسورس پرسنز اور تربیتی مواد فراہم کر رہا ہے۔ اہم موضوعات میں انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن ( آئی پی پی سی ), نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن (NPPO) کی ذمہ داریاں، متعلقہ انٹرنیشنل اسٹینڈرڈز فار فائٹو سینیٹری میژرز (ISPMs), درآمد و برآمد کے تقاضے، فائٹو سینیٹری سرٹیفکیشن اور خطرات کی بنیاد پر ریگولیٹری فیصلہ سازی شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل نافسا ، محمد عمران خان مہمند نے کہا کہ “نئے بھرتی ہونے والے افسران کی تکنیکی اور عملی صلاحیتوں کو ابتدا ہی سے مضبوط بنانا مؤثر ریگولیشن کے لیے ضروری ہے۔ CABI اور دیگر تکنیکی شراکت داروں کے تعاون سے یہ پروگرام ہمارے انسپکٹرز کو وہ علم اور مہارتیں فراہم کر رہا ہے جو پودوں کی صحت اور غذائی تحفظ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط کے مطابق زرعی تجارت کو سہولت دینے کے لیے ضروری ہیں۔ریجنل ڈائریکٹر CABI، ڈاکٹر صبیان فارس ہنی نے کہا: “CABI کو NAFSA کی زیرِ قیادت اقدام میں تکنیکی مہارت فراہم کرنے پر خوشی ہے۔
مضبوط سائنسی بنیادوں پر انسپیکشن، پیسٹ رسک انالیسس اور ایس پی ایس تقاضوں کی تعمیل پاکستان کو فصلوں اور صارفین کے تحفظ کے ساتھ محفوظ اور مسابقتی زرعی تجارت کی بنیادیں مزید مضبوط کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔انسپکٹرز کو پی آر اے ، نگرانی، پیسٹ رسک رجسٹرز، پیسٹ رپورٹنگ اور ہنگامی ردِعمل کی عملی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ عملی سیشنز میں CABI کے ہوریزن اسکیننگ اور پی آر اے ٹولز سے آگاہی شامل ہے، جو ابھرتے ہوئے کیڑوں کے خطرات کی جلد شناخت اور مختلف زرعی اجناس و راستوں سے وابستہ خطرات کے شواہد پر مبنی جائزے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ ان شعبوں میں مضبوط صلاحیت فصلوں اور زرعی پیداوار کے تحفظ کے ساتھ زیادہ سائنسی بنیادوں پر انسپیکشن اور قرنطینہ فیصلوں میں مدد دے سکتی ہے۔
پروگرام ریگولیٹری صلاحیت کو پاکستان کے زرعی تجارتی اہداف سے بھی جوڑتا ہے۔ درآمد کنندہ ممالک کے تقاضوں، ایس پی ایس اقدامات، اجناس پر مبنی پی آر اے ، خطرات میں کمی کے طریقوں اور فائٹو سینیٹری سرٹیفکیشن کی بہتر تفہیم غیر معیاری کھیپوں اور منڈی میں مسترد ہونے کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ہو سکتی ہے، جبکہ پاکستان کے ریگولیٹری اور سرٹیفکیشن نظام پر اعتماد کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔غذائی تحفظ اور کیڑے مار ادویات کا ضابطہ بھی نصاب کا اہم حصہ ہے۔ تربیت میں کیڑے مار ادویات کی باقیات، زیادہ سے زیادہ باقیات کی حدود (MRLs), لیبارٹری ٹیسٹنگ، رجسٹریشن، لیبلنگ، حفاظتی تقاضے اور خطرات کی بنیاد پر کیڑے مار ادویات کا جائزہ شامل ہے۔
ان شعبوں میں مضبوط ریگولیٹری نگرانی محفوظ خوراک، زیادہ ذمہ دارانہ کیڑے مار ادویات کے استعمال اور غیر معیاری یا غیر رجسٹرڈ مصنوعات کے بہتر کنٹرول میں معاون ہو سکتی ہے، جبکہ کم خطرے اور زیادہ محفوظ فصل تحفظ طریقوں، بشمول حیاتیاتی متبادل، کے لیے سازگار ماحول کی حمایت بھی کر سکتی ہے۔پروگرام میں کلاس روم سیکھنے کے ساتھ عملی مشقیں، دستاویزات کا جائزہ، کیس اسٹڈیز، ڈیجیٹل ٹولز کے مظاہرے، سیمولیشنز، اسیسمنٹس اور عملی انسپیکشن طریقہ کار سے آگاہی شامل ہے۔ یہ عملی طریقہ کار اس لیے اختیار کیا گیا ہے تاکہ نئے انسپکٹرز ضوابط اور بین الاقوامی معیارات کو انسپیکشن، سرٹیفکیشن اور سرحدی کنٹرول کے ماحول میں مستقل اور مؤثر فیصلوں میں تبدیل کر سکیں۔
یہ مشترکہ اقدام نافسا کی ریگولیٹری قیادت، CABI کی تکنیکی معاونت اور متعلقہ قومی اداروں کی مہارت کو یکجا کرتا ہے۔ نئے انسپیکشن عملے کی مہارتوں، جوابدہی اور عملی تیاری کو مضبوط بنا کر یہ پروگرام پاکستان میں پودوں کی صحت کے بہتر تحفظ، محفوظ غذائی نظام، بہتر ایس پی ایس تعمیل اور زیادہ مؤثر زرعی تجارت میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔








