اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نئے قوانین اور سروس رولز عمومی طور پر مستقبل کے معاملات پر لاگو ہوتے ہیں، ماضی سے ان کا اطلاق کرکے ملازمین کی طے شدہ سنیارٹی، ترقی کے لیے اہلیت اور حاصل شدہ حقوق کو متاثر نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون میں ماضی سے اطلاق کی واضح ہدایت موجود نہ ہو۔جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی …
نئے سروس رولز سے طے شدہ سنیارٹی متاثر نہیں کی جا سکتی، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نئے قوانین اور سروس رولز عمومی طور پر مستقبل کے معاملات پر لاگو ہوتے ہیں، ماضی سے ان کا اطلاق کرکے ملازمین کی طے شدہ سنیارٹی، ترقی کے لیے اہلیت اور حاصل شدہ حقوق کو متاثر نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون میں ماضی سے اطلاق کی واضح ہدایت موجود نہ ہو۔جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے واپڈا کے اسسٹنٹ سٹیشن اٹینڈنٹس کی سنیارٹی سے متعلق 25 سول پٹیشنز پر فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا اور واپڈا کی درخواستیں خارج کردیں۔
عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ سنیارٹی اور ترقی کے لیے اہلیت ملازمین کے حاصل شدہ حقوق کے مترادف ہیں، انہیں محض طریقہ کار کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ نئے قواعد یا قواعد میں ترمیم کے ذریعے پہلے سے طے شدہ سنیارٹی کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ نئے قواعد ماضی کی صورتحال یا پہلے سے حاصل شدہ حقوق میں مداخلت نہیں کر سکتے، کیونکہ قوانین کے مستقبل سے اطلاق کا اصول ملازمین کے حاصل شدہ حقوق کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔فیصلے کے مطابق واپڈا ہائیڈل جنریشن اسٹاف سروس رولز 2018 کے نفاذ کے بعد اسسٹنٹ اسٹیشن اٹینڈنٹس کی مشترکہ سنیارٹی لسٹ کے بجائے آپریشنز اور مینٹیننس شعبوں کے لیے علیحدہ سنیارٹی لسٹ مرتب کی گئی، جس سے بعض ملازمین کی ترقی کے امکانات متاثر ہوئے اور ان سے جونیئر ملازمین ترقی پا گئے۔
وفاقی سروس ٹربیونل نے قرار دیا تھا کہ 2018 کے قواعد ان ملازمین پر مستقبل سے لاگو ہوں گے جو ان قواعد کے نفاذ کے بعد سروس میں شامل ہوئے، جبکہ قواعد کے نفاذ سے قبل تعینات ملازمین کی سابقہ مشترکہ سنیارٹی بحال کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ وفاقی سروس ٹربیونل نے درست طور پر 2018 کے قواعد کو مستقبل سے لاگو کرنے کا حکم دیا ہے۔ نئے قواعد کے ذریعے ان ملازمین کی سنیارٹی کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا جو قواعد کے نفاذ سے قبل اپنی سنیارٹی حاصل کرچکے تھے۔
عدالت نے کہا کہ طے شدہ سنیارٹی کو نئے قواعد کے ذریعے تبدیل کرنا ملازمین کی جائز توقعات اور حاصل شدہ حقوق کو متاثر کرنے کے مترادف ہوگا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ وفاقی سروس ٹربیونل کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی وجہ موجود نہیں، چنانچہ واپڈا کی تمام 25 سول پٹیشنز خارج اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا۔








