اسلام آباد ۔ 9 مئی (اے پی پی) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے کہا ہے کہ نئے نوول کورونا وائرس (کوویڈ۔19) سے پھیلنے والی بیماری کے دوران دنیا بھر میں 11 کروڑ 60 لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ 10 مئی کو منائے جانے والے ماو¿ں کے عالمی دن کے حوالہ سے جاری رپورٹ میں عالمی ادارہ نے کہا ہے کہ 11 مارچ کو عالمی سطح پر …
نئے نوول کورونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری کے دوران دنیا بھر میں 11 کروڑ 60 لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے، یونیسیف

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 مئی (اے پی پی) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے کہا ہے کہ نئے نوول کورونا وائرس (کوویڈ۔19) سے پھیلنے والی بیماری کے دوران دنیا بھر میں 11 کروڑ 60 لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ 10 مئی کو منائے جانے والے ماو¿ں کے عالمی دن کے حوالہ سے جاری رپورٹ میں عالمی ادارہ نے کہا ہے کہ 11 مارچ کو عالمی سطح پر وباءقرار دیئے جانے کے بعد اگلے 40 ہفتوں (یا 9 ماہ) کے دوران دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ان بچوں کی پیدائش کا امکان ہے جہاں کا طبی نظام اور میڈیکل سپلائز پہلے ہی وبائی مرض کے نتیجہ میں دباو¿ کا شکار ہیں۔ اس عرصہ کے دوران پاکستان میں 50 لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے جبکہ بھارت میں سب سے زیادہ 2 کروڑ 10 لاکھ بچے پیدا ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق مائیں بننے والی خواتین اور نومولود بچوں کو تلخ حقائق کا سامنا ہوگا جن میں لاک ڈاو¿نز اور کرفیوز شامل ہیں جبکہ طبی مراکز کو پہلے ہی طبی آلات کی قلت اور زچگی میں مدد دینے والے عملہ کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہنریٹیا فورے نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں مائیں لاک ڈاو¿ن کے دوران ماں بننے کے سفر کا آغاز کررہی ہیں. عالمی ادارہ نے خبردار کیا ہے کہ کوویڈ۔19 کی روک تھام کےلئے کئے جانے والے اقدامات زندگی بچانے والی خدمات یعنی بچوں کی پیدائش کو متاثر کر سکتے ہیں جس سے لاکھوں حاملہ خواتین اور ان کے بچوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ آئندہ 9 ماہ کے دوران بھارت میں سب سے زیادہ یعنی 2 کروڑ 10 لاکھ بچے پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے بعد چین میں ایک کروڑ 35 لاکھ، نائیجیریا میں 64 لاکھ، پاکستان میں 50 لاکھ اور انڈونیشیا میں 40 لاکھ بچوں کی پیدائش ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے بیشتر ممالک میں دوران زچگی ہلاکتوں کی شرح وبا سے قبل بھی کافی زیادہ تھی اور کوویڈ۔19 کے نتیجہ میں اس میں مزید اضافہ کا خطرہ ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکہ 33 لاکھ بچوں کی متوقع پیدائش کے باعث چھٹا بڑا ملک ہے۔ نیویارک کی انتظامیہ بچوں کی پیدائش کے متبادل مراکز کے قیام پر غور کر رہی ہے کیونکہ ہسپتالوں میں جانے کے خوف سے متعدد حاملہ خواتین فکرمند ہیں۔ عالمی ادارہ نے زور دیا ہے کہ حاملہ کیلئے تمام تر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے، ابھی یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ماں سے زچگی کے دوران بچے میں کورونا وائرس منتقل ہو سکتا ہے مگر عالمی ادارہ نے تمام حاملہ خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خود کو وائرس سے بچانے کےلئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کوویڈ۔19 کی علامات کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور علامات کا سامنا ہو یا خدشہ ہو تو فوراً طبی مراکز سے رجوع کریں۔








