نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار فنون کے تحفظ کے لئے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں،اورنگزیب خان کھچی

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ حکومت نایاب، روایتی اور معدومیت کے خطرے سے دوچار فنون کو محفوظ بنانے اور انہیں آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کر رہی ہے، اس سلسلے میں یونیسکو کے تعاون سے بھی کوششیں جاری ہیں، فنونِ لطیفہ اور روایتی دستکاریوں سے وابستہ فنکار پاکستان کا قیمتی ثقافتی اثاثہ ہیں جن کے فن کو …

اسلام آباد۔1ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ حکومت نایاب، روایتی اور معدومیت کے خطرے سے دوچار فنون کو محفوظ بنانے اور انہیں آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کر رہی ہے، اس سلسلے میں یونیسکو کے تعاون سے بھی کوششیں جاری ہیں، فنونِ لطیفہ اور روایتی دستکاریوں سے وابستہ فنکار پاکستان کا قیمتی ثقافتی اثاثہ ہیں جن کے فن کو زندہ رکھنا قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے یہ بات لوک ورثہ اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے )کے نیشنل ایوارڈز 2026ء کے لئے نامزد فنکاروں سے ملاقات کے دوران کہی۔

انہوں نے ایوارڈ کے لئے منتخب تمام فنکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز نہ صرف ان کے لئے بلکہ ان کے خاندان، متعلقہ شعبے اور پورے ملک کے لئے باعثِ فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام نامزد فنکار میرٹ اور اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اس اعزاز کے مستحق قرار پائے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس مرتبہ نوجوان فنکاروں کو بھی بڑی تعداد میں نیشنل ایوارڈز کے لئے منتخب کیا گیا ہے اور وزیراعظم کے وژن کے تحت یہ اقدام نوجوان نسل میں فنون و ثقافت کے فروغ کے لئے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنکار اپنے اپنے فن کو زندہ رکھیں اور اسے نئی نسل تک منتقل کریں تاکہ صدیوں پرانے نایاب فنون، روایتی ہنر اور ثقافتی ورثہ وقت کے ساتھ معدوم نہ ہوں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے نایاب اور ختم ہونے کے قریب فنون محض فنون نہیں بلکہ ہماری شناخت، تاریخ اور تہذیبی ورثے کا حصہ ہیں، ان فنون کے تحفظ، دستاویز بندی اور نئی نسل کو منتقلی کے لئے وزارت قومی ورثہ و ثقافت، لوک ورثہ اور پی این سی اے کے ذریعے اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں گے۔

اورنگزیب خان کھچی نے فنکاروں پر زور دیا کہ وہ لوک ورثہ اور پی این سی اے کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے فن کا عملی مظاہرہ کریں تاکہ عوام کو ملک کے مختلف علاقوں میں موجود منفرد اور نایاب فنون سے آگاہی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فنکاروں کو بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کے مواقع فراہم کرنے کے لئے بھی ان کے ناموں کو مدنظر رکھے گی۔وفاقی وزیر نے خصوصی طور پر نیشنل ایوارڈز کے لئے منتخب خواتین فنکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اور وزارت قومی ورثہ و ثقافت ملک بھر سے باصلاحیت خواتین کو تلاش کرنے، ان کی فنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے خصوصی کوششیں کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین آرٹ اینڈ کرافٹ، سلائی کڑھائی، ڈیزائن، ڈرامہ، خطاطی، موسیقی اور دیگر شعبوں میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لوک ورثہ اور پی این سی اے کی ٹیمیں بھی اس امر پر مبارکباد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے فنکاروں کے انتخاب میں میرٹ کو ترجیح دی اور ایک شفاف عمل کے ذریعے نام فائنل کئے۔ انہوں نے کہا کہ فنکاروں کی تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور متعلقہ اداروں کی مزید بہتری کے لئے قابلِ عمل تجاویز پر کام کیا جائے گا۔

اس موقع پر وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے بتایا کہ نیشنل ایوارڈز کے لئے انتخاب مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا گیا جبکہ متعدد امیدوار مختلف مراحل میں ڈراپ بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نامزد فنکاروں کے نام مختلف کمیٹیوں کے جائزے، صوبوں سے مشاورت اور متعلقہ اداروں کی سفارشات کے بعد حتمی کئے گئے جبکہ وفاقی وزیر نے بھی ناموں کی سخت جانچ پڑتال کی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایوارڈز کے لئے نامزد افراد واقعی اپنے اپنے شعبوں میں قابل اور محنتی ہیں اور انہوں نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پر یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔

ایوارڈز کا اعلان 14 اگست کو کیا جاتا ہے جبکہ تقریبِ تقسیم 23 مارچ کو منعقد ہوتی ہے۔ملاقات کے دوران ملک بھر اور مقبوضہ کشمیر سمیت مختلف علاقوں سے آنے والے نامزد فنکاروں نے اپنا تعارف کرایا اور اپنے اپنے فن اور فنی خدمات کے بارے میں وفاقی وزیر کو آگاہ کیا۔ فنکاروں نے میرٹ کی بنیاد پر نیشنل ایوارڈ کے لئے منتخب کئے جانے پر لوک ورثہ، پی این سی اے ، وزارت قومی ورثہ و ثقافت، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی اور وفاقی سیکرٹری اسد رحمان گیلانی کا شکریہ ادا کیا۔

فنکاروں نے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں کے لئے اپنی فنی خدمات پیش کرنے کی پیشکش بھی کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کے ثقافتی ورثے کے فروغ، نایاب فنون کے تحفظ اور نئی نسل تک روایتی ہنر کی منتقلی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

مزید خبریں