نتائج کے باوجود رخصتی، ریال میڈرڈ میں ژابی الونسو ا کیوں نہ چل سکے

میڈرڈ۔13جنوری (اے پی پی):ہسپانوی سپر کپ کے اتوار کو کھیلے گئے فائنل کے بعد مناظر تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گئے۔ کیلین ایمباپے ٹیم کے ساتھیوں کو میدان چھوڑنے کا اشارہ کر رہے تھے، جبکہ ژابی الونسو انہیں رکنے کا کہتے دکھائی دئیے۔ سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق کیلین ایمباپے کے اصرار پر بالآخر ژابی الونسو نے رخ موڑ لیا۔ بارسلونا کی جیت کے بعد گارڈ آف آنر نہیں …

میڈرڈ۔13جنوری (اے پی پی):ہسپانوی سپر کپ کے اتوار کو کھیلے گئے فائنل کے بعد مناظر تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گئے۔ کیلین ایمباپے ٹیم کے ساتھیوں کو میدان چھوڑنے کا اشارہ کر رہے تھے، جبکہ ژابی الونسو انہیں رکنے کا کہتے دکھائی دئیے۔ سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق کیلین ایمباپے کے اصرار پر بالآخر ژابی الونسو نے رخ موڑ لیا۔ بارسلونا کی جیت کے بعد گارڈ آف آنر نہیں دیا گیا۔کئی مبصرین کے نزدیک یہ صرف سپورٹس مین سپرٹ کی کمی نہیں تھی، بلکہ اس بات کی علامت بھی تھی کہ میدان میں فیصلے کوچ نہیں بلکہ کھلاڑی کر رہے ہیں۔ ایک ایسا تاثر، جو ژابی الونسو جیسے باوقار اور نظم و ضبط کے قائل کوچ سے کبھی منسوب نہیں کیا جاتا۔یہ لمحہ کسی استعفے کا اعلان نہیں تھا، نہ ہی یہ پہلے سے طے شدہ فیصلہ تھا۔

ژابی الونسو اخود بھی یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ ریال میڈرڈ میں ان کا سفر صرف سات ماہ بعد ختم ہو جائے گا۔ تاہم پیر کی سہ پہر کلب بورڈ کے اجلاس میں صرف ژابی الونسو کی رخصتی ہی زیرِ بحث تھی۔کلب کے سرکاری بیان میں اس علیحدگی کو باہمی رضامندی قرار دیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ آہستہ آہستہ ناگزیر بنتا چلا گیا۔ بورڈ کی جانب سے دی جانے والی وجوہات مبہم تھیں کہ ژابی الونسو اپنی وہ فٹبال نافذ نہ کر سکے جو انہیں بائر لیورکوزن میں کامیابی دلوا چکی تھی، ٹیم کی جسمانی کیفیت مثالی نہیں رہی، کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بہتری نظر نہیں آئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹیم ان کے لیے کھیلتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی تھی۔

شکستوں کی فہرست بھی پیش کی گئی، جن میں کلب ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پیرس سینٹ جرمین سے ہار اور لا لیگا میں اٹلیٹیکو میڈرڈ کے خلاف 2-5 کی شکست شامل تھی۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ریال میڈرڈ چیمپئنز لیگ کے لیگ مرحلے میں ٹاپ 8 میں موجود ہے، کوپا دل رے کے اگلے مرحلے میں پہنچ چکا ہے اور لا لیگا میں آدھے سیزن پر بارسلونا سے صرف چار پوائنٹس پیچھے ہے، جبکہ اکتوبر میں کاتالان حریف کو شکست بھی دے چکا ہے۔زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ اس حقیقت کی تصدیق تھی کہ صدر فلورینٹینو پیریز نے کبھی بھی ژابی الونسو پر مکمل یقین نہیں کیا۔ انہیں کوچ بنانے کی تجویز تو منظور کی گئی، مگر دل سے نہیں۔ریال میڈرڈ میں کوچنگ کی شروعات فٹبال کی سب سے مشکل ذمہ داریوں میں شمار ہوتی ہے۔

یہاں فرد کی چمک دمک پر مبنی ثقافت کو اجتماعی، ہائی پریس اور جدید فٹبال میں ڈھالنا آسان نہیں۔ الونسو کی اتھارٹی ابتدا ہی سے کمزور کر دی گئی۔ وہ کلب ورلڈ کپ کے بعد کام سنبھالنا چاہتے تھے، مگر انہیں یہ سہولت بھی نہ دی گئی۔نئے سائننگز بھی معاون ثابت نہ ہو سکیں۔ فرانکو مستانتوؤنو، جنہیں میڈیا نے لامین یامال کا جواب بنا کر پیش کیا، کوئی خاص اثر نہ چھوڑ سکے۔ ونیسیئس جونیئر کی فارم میں گراوٹ اور کوچ سے اختلافات نے حالات مزید خراب کیے۔

دفاعی لائن انجریز سے متاثر رہی، جبکہ کلب نے مڈفیلڈر کی الونسو کی درخواست (مارٹن زوبی میندی) کو نظرانداز کیا۔اس دوران ٹیم میں کوئی مضبوط شخصیت بھی نظر نہ آئی جو ڈریسنگ روم کو جوڑ سکے۔ ایمباپے ذاتی ریکارڈز کے تعاقب میں رہے، جبکہ الونسو اپنے فلسفےہائی پریس، تیز رفتار اور منظم پوزیشننگ پر کھلاڑیوں کو قائل نہ کر سکے۔نتیجتاً، وہ فٹبال جو انہیں جرمنی میں ناقابلِ شکست بنا چکی تھی، میڈرڈ میں حقیقت کا روپ نہ دھار سکی۔

مزید خبریں