اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے محقق ڈاکٹر خرم شہزاد نے بائیومیڈیکل امیج سیگمینٹیشن کے لیے ایک نیا "ڈوئل-کوفی شنٹ ریگولرائزیشن" طریقہ متعارف کرایا ہے جو میڈیکل امیجنگ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اس جدید تکنیک کی مدد سے امیجنگ کی درستگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور جھوٹے یا غلط نتائج میں 97 فیصد تک کمی ممکن …
نسٹ کے محقق ڈاکٹر خرم شہزاد نے بائیومیڈیکل امیج سیگمینٹیشن کیلئے نیا "ڈوئل-کوفی شنٹ ریگولرائزیشن” طریقہ متعارف کرا دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے محقق ڈاکٹر خرم شہزاد نے بائیومیڈیکل امیج سیگمینٹیشن کے لیے ایک نیا "ڈوئل-کوفی شنٹ ریگولرائزیشن” طریقہ متعارف کرایا ہے جو میڈیکل امیجنگ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اس جدید تکنیک کی مدد سے امیجنگ کی درستگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور جھوٹے یا غلط نتائج میں 97 فیصد تک کمی ممکن ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کینسر، دل اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے ’’سائنس ڈائریکٹ‘‘ (ScienceDirect) میں شائع ہوئی ہے اور عالمی سطح پر اسے سراہا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ان کی یہ کوشش پاکستان کو میڈیکل ریسرچ میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے کی طرف ایک قدم ہے۔








