اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کی تمام اشکال اور صورتوں کے خاتمے اور بدعنوانی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پر عزم ہے، قومی احتساب بیورو (نیب) نے موجودہ نیب انتظامیہ کی مدت کے دوران بدعنوان عناصر سے 178 ارب روپے وصول کئے ۔نیب کی رپورٹ کے مطابق موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال …
نیب بدعنوانی کی تمام اشکال اور صورتوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پر عزم ہے، چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 فروری (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کی تمام اشکال اور صورتوں کے خاتمے اور بدعنوانی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پر عزم ہے، قومی احتساب بیورو (نیب) نے موجودہ نیب انتظامیہ کی مدت کے دوران بدعنوان عناصر سے 178 ارب روپے وصول کئے ۔نیب کی رپورٹ کے مطابق موجودہ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں قومی احتساب بیورو نے 178 ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرائے ہیں ۔ قومی احتساب بیورو نے 2019ء کے دوران کل51 ہزار591 موصولہ شکایات میں سے 46 ہزار 123 شکایات کو نمٹایا ،جبکہ باقی مانندہ 13 ہزار 299 شکایات کو نمٹانے کیلئے کارروائی کی جارہی ہے۔قومی احتساب بیورو نے اس دوران ایک ہزار 464 شکایات کی تصدیق کی اجازت دی جن میں سے جن میں سے13 سو شکایات کی تصدیق مکمل کی جاچکی ہے جبکہ 770 تصدیق شدہ شکایات کی تفتیش کا عمل اس وقت جاری ہے۔قومی احتساب بیورو نے2019ء کے دوران قانون کے مطابق 574 انکوائریوں کی منظوری دی اور 859 باقی مانندہ انکوائریوں میں سے 698 کی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔اسی طرح نیب نے 2019ء کے دوران 221 کیسز کی تفتیش کی اجازت دی جس میں سے 217 کیسز کی تفتیش اپنے منتقی انجام تک پہچ چکی ہے اور 335 کیسز میں تفتیش کا عمل قانون کے مطابق جاری ہے۔قومی احتساب بیورو نے اس عرصے کے دوران 179 میگا بدعنوانی کے ریفرنسز میں سے مختلف احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 101 ریفرنس دائر کئے جبکہ46 ریفرنس اپنے منتقی انجام تک پہنچ چکے ہیں۔ ابتک 179 میگا بدعنوانی کے ریفرنسز میں سے13 انکوائریاں اور 19 تفتیش کے اقدامات زیر عمل ہیں۔1275 کل ریفرنسز میں 943 ارب روپے کی بدعنوانی شامل ہے جو 25 احتساب عدالتوں میں مختلف مراحل میں زیر سماعت ہیں۔قومی احتساب بیورو کو مضاربہ اور مشارقہ سکینڈلز کے متاثرین سے 30 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔نیب نے 28 ریفرنس مختلف احتساب عدالتوں میں دائر کرنے کے علاوہ 45 افراد کو اب تک گرفتار کیا ہے۔نیب نے شکایات کے فوری اندراج اور عوامی شکایات کے ازالے کیلئے اپنے علاقائی دفاتر میں شکایات سیل قائم کررکھے ہیں ۔مزید برآں نیب کے افسران کی کارکردگی کی نگرانی اور جائزہ کیلئے ایک جامع درجہ بندی متعارف کرا رکھا ہے۔قومی احتساب بیورو نے ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں 50 ہزار سے زائد کردار ساز انجمنوں کا بھی قیام عمل میں لایا ہے۔قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب بدعنوانی کی تمام اشکال اور صورتوں کے خاتمے اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پر عزم ہے۔نیب کے تفتیش کاروں اور پراسیکیوٹرز کی استداد کار میں اضافہ کیلئے انہیں تربیت فراہم کی جارہی ہے تاکہ وہ متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات کی بھر پور پیروی کرسکے اور قانون کے مطابق ٹرائل مکمل کرسکے۔انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت اور100 فیصد پیش رفت کے عزم پر قائم ہے تاکہ پاکستان کو بدعنوانی سے پاک کیا جا سکے۔








