اسلام آباد ۔ 29 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے پراپیگنڈا بے بنیاد جبکہ احتساب کا عمل ختم ہونے کا تاثر بھی غلط ہے، موجودہ حکومت میں کسی کو ذاتی فائدہ نہیں مل سکتا، غلط تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی کچھ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں، گزشتہ 10 …
نیب ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے پراپیگنڈا بے بنیاد جبکہ احتساب کا عمل ختم ہونے کا تاثر بھی غلط ہے، شہزاد اکبر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 دسمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے پراپیگنڈا بے بنیاد جبکہ احتساب کا عمل ختم ہونے کا تاثر بھی غلط ہے، موجودہ حکومت میں کسی کو ذاتی فائدہ نہیں مل سکتا، غلط تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی کچھ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں، گزشتہ 10 سالوں میں نیب قوانین میں تبدیلی کی خواہشات بدنیتی پر مبنی اور خود کو بچانے کے لئے تھیں، ترمیمی آرڈیننس کی ایک مدت ہوتی ہے اسے قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ میں لایا جائے گا،بہتری کی کوئی تجاویز آئیںتو ان کا خیر مقدم کریںگے، موجودہ حکومت نے معاشی بہتری کے آغاز کے ساتھ اداروں کی ساکھ کو بہتر کیا ہے، ادارہ جاتی ڈھانچے میں بہتری کے بعد قوانین میں بہتری لائی جاتی ہے ،اب نیب کی طرح ایف آئی اے میں بھی بہتری لائیں گے۔ اتوار کو پی آئی ڈی میں وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس نیب آرڈیننس 2019 کے بارے میں ہے، گزشتہ چند روز سے تاثر دیا جا رہا ہیکہ احتساب کا عمل ختم ہوگیا ہے لیکن نیب ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے کچھ وضاحتیں بہت ضروری ہیں اگر کوئی ذاتی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو ایسا موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے ممکن نہیںہے، احتساب کا عمل ہو کر رہے گا۔ وفاقی اور صوبائی ٹیکسیشن، لیویز ڈیوٹیز نیب قوانین کے تحت ڈیل نہیں ہو ں گے ،نیب قانون کا اطلاق ٹرانزیکشنز پر نہیں ہو گا یہ ایف بی آر کے دائرہ کار میں آئے گا ماسوائے اس میں بد عنوانی شامل نہ ہو۔ اسی طرح کوئی بھی شخص جس کا سرکاری عہدہ سے بلواسطہ یا بلا واسطہ تعلق نہیں ہے اور وہ اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں نہیں آتا تو اس کے معاملہ میں نیب کے قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ معاشرے میں کرپشن کا ناسور پھیلا ہے اس کو روکنے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے، جس نے بدعنوانی کی اور کمیشنلئے اسے سخت سزا ملنی چاہیے، ایسا نہیں کہ یہ قانون پاس ہونے کے بعد کسی کو ٹیکس چوری کی چھوٹ دی جارہی ہے، وہ معاملہ متعلقہ ادارہ دیکھے گا تاہم نیب کی موجودہ ترمیم پارلیمنٹ کے پاس ہی جانی ہے، اگر کوئی تبدیلی لانا چاہتا ہے تو تجاویز لائے جائز تجاویز کاخیر مقدم کریں گے۔ نیب کا کام کرپشن کو پکڑنا ہے اداروں کو ٹھیک کرنا نہیں اس کے لئے متعلقہ ادارے اور قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو معاشی حالات بہت خراب تھے لیکن اب معیشت کو درست سمت میں گامزن کر دیا گیا ہے، آج معیشت مضبوط ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 سال میں نیب کیساتھ زیادتی کی گئی، پی ٹی آئی حکومت نے نیب ملازمین کو ان کا حق دیتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ ہم اداروں کی ساکھ بحال کر رہے ہیں تاکہ وہ بہتر انداز میں کام کر سکیں۔انہوںنے کہا کہ لیگی ترجمانوں کی نیب آرڈیننس پر سیاست افسوسناک ہے، ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ کرپشن کرنے والے کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ نیب ڈرافٹ کو دیکھے بغیر تنقید کی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ٹیکس کے معاملات پر فیصلہ لیا گیا ہے کہ یہ معاملات ایف بی آر دیکھے گا ماسوائے اس میں بد عنوانی نہ ہو، ترمیمی آرڈیننس کا سیکشن 4 بتائے گا کہ قانون کا اطلاق کہاں ہوگا۔ 12 میں سے ایک شق اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔ لیوی، امپورٹ اور ٹیکس کے معاملات نیب نہیں دیکھے گا اور مخصوص ٹرانزیکشنز پر نیب کے قانون کا اطلاق نہیں ہوگا جبکہ ملزم پبلک آفس ہولڈر نہ ہو تو نیب کیس کو نہیں دیکھے گا اس سے متعلق ادارے اسے دیکھیں گے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ ایف بی آر, نیب اور ایف آئی اے کی اپنی حدود ہیں جن کا وضاحت کی گئی ہے۔ جہاں پروفاقی ٹیکس یا لیویز یا اور کوئی قانون ہو گا تو وہ ٹیکسیشن کے زمرے میں آئے گا ،نیب کے دائرہ کار میں نہیںہوگا اور اگر کسی شخص نے ٹیکس ادا نہیں کیا یاٹیکس چوری کی تو اس کا کیس ایف بی آر دیکھیگا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ اس آرڈیننس کے تحت اگر کوئی عام شخص جس کا کسی اختیار کو استعمال کرنے میں رابطہ نہیں ہے تو وہ نیب کے قانون تحت نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ذاتی حیثیت میں جعلی ہاوسنگ سوسائٹی یا مضاربہ کی طرز پرکمپنی بناتا ہے اور عوام سے دھوکہ دہی کرتا ہیتو اس کا کیس نیب ” عوام الناس سے بڑے پیمانے پردھوکہ دہی” کے تحت دیکھے گا۔ معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ نیب کی دست اندازی یا مداخلت کے لیے ضروری ہے کہ اس نے کوئی غیر ضروری فائدہ اٹھایا ہو اوراگر طریقہ کار میں مسئلہ ہے تو یہ نیب کا معاملہ نہیں ہو گا، اس کے لیے آڈٹ, آڈٹ رپورٹس سمیت محکمانہ تحقیقات کاایک پورا طریقہ کار پہلے سے ہی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمانت, ریمانڈ اور دیگر چیزوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، گڈ فیتھ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا تاہم ابو بچائو مہم کے اوپر کوئی تعاون نہیں ہو سکتا۔ پی ٹی آئی کا احتساب کا ایک نعرہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر مراد سعید نیگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے کیس میں اس نے وزیر اعلی آفس میں فرنٹ مین بھی رکھا اس دفتر کا استعمال کیا اور جعلی ٹی ٹیز اور بے نامی کمپنیاں بنا کر ان کے ذریعے فائدہ حاصل کیا اس آرڈیننس کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر احتساب کا شعور صرف عمران خان نے دیا ہے۔موجودہ حکومت میں ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم 2023 تک یاد دلاتے رہیں گے کہ کیسا پاکستان آپ چھوڑ کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ان کی معاشی ٹیم نے ملکی معیشت کو آئی سی یو سے نکالا اور استحکام کی جانب گامزن کیا، اب موڈیز کی رپورٹ, سیاحت کی رپورٹ اقتصادی اشاریے، کاروباری آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے سب رپورٹس پاکستان کے حق میں آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2020 ان ثمرات کی عوام تک منتقلی کا سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بیس جنوری سے 192 ارب روپے کا ایک احساس پروگرام شروع کر نے جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پناہ گاہوں کے حوالے سے صرف اسلام آباد کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق سڑکوں پر سونے والے 4 لاکھ اسی ہزار افراد اس سال ریاست کے مہمان بنے ۔ انہوں نے کہا کہ لوٹا ہوا پیسہ واپس لانے کے لیے ریکوری یونٹ بنایا گیا ہے اورصرف این ایچ اے میں 11.9 ارب روپے کی رقوم واپس وصول کی گئی ہیں۔ مراد سعید نے کہا کہ پرچی والے دوسرے جونئیر زرداری کو بیرون ملک تعلیم کے دوران تعلیم پر توجہ کا نہیں بلکہ لوٹے اثاثوں کو کیسے چھپانا ہے بتایا جاتا تھا اورسی آئی اے اس کی کال سن رہی ہوتی تھی۔ جونئیر زرداری مولانا کے کنٹینر پر چڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 24 ہزار ارب کے غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے کمیشن کی رپورٹ بھی جلد قوم کے سامنے لائی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ عمران خان نے سمجھوتا نہیں کیا اسی لیے یو این میں جاکر کشمیر کا بھرپور انداز میں مقدمہ لڑا۔








