نیب شفافیت اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتا ہے، ایمانداری اور رزق حلال ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے، جلد دولت کمانے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر میں خالی ہاتھ جانا ہے، قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کا بیان

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) قومی احتساب بیورو ( نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب شفافیت اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتا ہے، ایمانداری اور رزق حلال ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے، جلد دولت کمانے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر میں خالی ہاتھ جانا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نیب نے ڈبل شاہ …

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) قومی احتساب بیورو ( نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب شفافیت اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتا ہے، ایمانداری اور رزق حلال ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے، جلد دولت کمانے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر میں خالی ہاتھ جانا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نیب نے ڈبل شاہ کو اس سے لوٹے گئے 4 ارب روپے وصول کر کے اسے سنگل شاہ بنا دیا، یہ رقم ڈبل شاہ کے متاثرین میں تقسیم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل شاہ کیس کے شریک ملزم تصور گیلانی سے لوٹے گئے 1.9 ارب روپے میں سے1.2 ارب روپے وصول کر کے متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن پرائیویٹ ہاﺅسنگ سوسائٹی /کوآپریٹو سوسائٹیزکے خلاف نیب میں کیسز جاری ہیں، ان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا کیونکہ سرکاری ملازمین پنشنروں کو لوٹ کر ان کی محنت کی کمائی سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے ساتھ فراڈ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریگولیٹرز کو جعلی اور غیر رجسٹرڈ ہاﺅسنگ سوسائٹی کے خلاف کارروائی کرنے چاہئے انہیں چیک کرنا چاہئے کہ سوسائٹی نے NOCحاصل کیا ہے۔ متعلقہ ریگولیٹر سے لے آﺅٹ پلان کی منظوری لی گئی ہے اور قانون کے مطابق اس زمین پر اس کا قبضہ ہے۔انہوںنے کہا کہ ایمانداری اور رزق حلال ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔جلد دولت کمانے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ قبر میں خالی ہاتھ جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی تمام بڑائیوں کی جڑ ہے جو بتدریج تمام وسائل کھا رہی ہے انہوں نے کہا کہ نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ تمام انکوائریاں اور انوسٹی گیشن مقررہ مدت میں مکمل کی جائے اور نیب میں آنے والے تمام ملزموں کی عزت نفس یقینی بنائی جائے۔ انہوںنے کہا کہ تمام سائلین کی شکایات قانون کے مطابق تیزی سے نمٹائی جائیں۔