اسلام آباد ۔ 23 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے، نیب نے مو¿ثر تحقیقات کرکے ٹھوس شواہد اکٹھے کئے ہیں، ایف آئی اے شوگر کمیشن رپورٹ کے سلسلہ میں تحقیقات کر رہی ہے، رمضان شوگر ملز کے 11 ملازمین …
نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے، نیب نے مو¿ثر تحقیقات کرکے ٹھوس شواہد اکٹھے کئے ہیں،وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے، نیب نے مو¿ثر تحقیقات کرکے ٹھوس شواہد اکٹھے کئے ہیں، ایف آئی اے شوگر کمیشن رپورٹ کے سلسلہ میں تحقیقات کر رہی ہے، رمضان شوگر ملز کے 11 ملازمین کے اکاﺅنٹس کے ذریعے ساڑھے 9 ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی، منظم گینگ نے منظم طریقہ سے منی لانڈرنگ کی، شہباز شریف نے پہلے بھی میرے سوالات کے جواب نہیں دیئے، آج ان سے 4 سوال پوچھے ہیں، میڈیا پر صفائی دینے والے عدالت میں صفائی پیش کریں۔ وہ بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک کیسے چلایا گیا، شہباز شریف اور ان کے خاندان نے منظم طریقہ سے اپنے آلہ کاروں کے ذریعے منی لانڈرنگ کی، انہوں نے ٹی ٹیز کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کیا، اپنے کاروبار کو بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا چکا ہے، تفصیلی تفتیش پر نیب کی ٹیم کو کریڈٹ جاتا ہے، نیب کی رپورٹ 55 والیمز اور 25 ہزار صفحات پر مشتمل ہے جو کہ ٹھوس دستاویزی شواہد پر مبنی ہے، اس ریفرنس میں 16 افراد نامزد ہیں جن میں سے 6 کا تعلق شہباز شریف خاندان سے ہے، 10 ملزمان ان کے آلہ کار ہیں، اس کیس میں 4 افراد اپنا گناہ تسلیم کرتے ہوئے سلطانی گواہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین کمپنیاں بھی اس منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا حصہ ہیں، 177 جعلی ٹی ٹیز بھی نیب ریفرنس کا حصہ ہیں، حمزہ شہباز کے اکاﺅنٹ میں آنے والی رقوم کی تفصیل بھی ریفرنس میں درج ہے۔ مشیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے شوگر کمیشن رپورٹ کے سلسلہ میں تحقیقات کر رہی ہے، رمضان شوگر ملز کے 11 ملازمین کے اکاﺅنٹس کے ذریعے ساڑھے 9 ارب کی منی لانڈرنگ ہوئی، منی لانڈرنگ کی رقم شہباز شریف اور ان کے خاندان نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کی، ان کی درآمد شدہ لینڈ کروزر کی کسٹم ڈیوٹی منی لانڈرنگ کی رقوم سے ادا کی گئی، ڈی ایچ اے میں 2 گھر اسی منی لانڈرنگ کی رقم سے خریدے گئے، شہباز شریف نے اپنی اہلیہ کو ایک گھر تحفہ میں خرید کر دیا، یہ گھر بھی اسی رقم سے خریدا گیا، منظم گینگ نے منظم طریقہ سے منی لانڈرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان شوگر ملز کے 11 ملزمان کے جعلی اکاﺅنٹس کھولے گئے اور ان میں ساڑھے 9 ارب روپے کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجی گئی، ان ملازمین میں ملک مقصود 2.3 ارب روپے، رضا عباس 1.2 ارب روپے، غلام شبر 1.1 ارب روپے، خضر حیات 1.4 ارب روپے، محمد غواث 880 ملین روپے، اکرام حسین 650 ملین روپے، تنویر 512 ملین، توقیر الدین 480 ملین، گلزار احمد 425 ملین، مسرور احمد 230 ملین اور رانا وسیم کے اکاﺅنٹ میں 250 ملین روپے ڈالے گئے اور پھر نکالے گئے۔ یہ رمضان شوگر ملز شہباز شریف فیملی کی ملکیت ہے، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز اس کا کاروبار دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی آج 70ویں سالگرہ ہے، آن کے دن انہیں پورا سچ بولنا چاہئے، شہباز شریف نے اس سے قبل بھی میرے 17 اور پھر 12 سوالات کے جواب نہیں دیئے تاہم آج ان سے 4 سوالات پوچھتا ہوں، کیا سلمان شہباز اور حمزہ شہباز ان کی ایماءپر 2008ءسے 2018ءکے دوران کرپشن کرتے رہے اور کک بیکس وصول کرتے رہے؟ اس کرپشن کو حلال کرنے کیلئے منظم منی لانڈرنگ کی گئی، سلمان شہباز سے ذاتی استعمال کیلئے پیسے وصول کرتے رہے، لندن میں ان کے مفرور بیٹے سلمان شہباز اور مفرور داماد علی عمران کن وسائل کے ذریعے اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں کیونکہ ان کا وہاں کوئی کاروبار بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو ان کی بھتیجی نے ان کی سالگرہ کے موقع پر پارٹی سے نکال دیا ہے جو کہ افسوسناک صورتحال ہے، انہیں بزرگوں کا احترام کرنا چاہئے، میں بھی بزرگوں کا احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2 گھنٹے ٹی وی پر بیٹھ کر بھاشن دیتے ہیں تو صحت مند ہوتے ہیں لیکن جب عدالت کی بات ہوتی ہے تو ان کی صحت خراب ہو جاتی ہے، میڈیا پر صفائی دینے والے عدالت میں صفائی پیش کریں۔








