نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح شاندار ہے ‘ نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے موثر نتائج برآمد ہوئے ہیں ، چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال

اسلام آباد ۔ 22 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال نے کہاہے کہ نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح شاندار ہے ‘ نیب پیشہ وارانہ کارکردگی شفافیت ‘ میرٹ اور قانون پر بلا امتیاز عمل درآمد کے ذریعے ملک سے ہرقسم کی بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے تمام وسائل برﺅے کار لا رہا ہے، …

اسلام آباد ۔ 22 دسمبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئر مین جسٹس جاوید اقبال نے کہاہے کہ نیب کی وائٹ کالر کرائم سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح شاندار ہے ‘ نیب پیشہ وارانہ کارکردگی شفافیت ‘ میرٹ اور قانون پر بلا امتیاز عمل درآمد کے ذریعے ملک سے ہرقسم کی بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے تمام وسائل برﺅے کار لا رہا ہے، نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے موثر نتائج آئے ہیں ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ نیب کو 2019ءمیں2018ءکے مقابلے میں دوگناہ شکایات موصول ہوئیں نیب افسران بدعنوانی کے خاتمے کو قومی فرض سمجھ کر ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے مقدمات تیزی سے نمٹانے کےلئے اوقت کار کا تعین کیا ہے ‘ نیب نے سینئر سپر وائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کےلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے ‘ اس سے نہ صرف نیب افسران کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب میں مقدمات کی تحقیقات پر اثرانداز نہیں ہوسکتا‘ انکوائری اور انوسٹی گیشن کے معیار میں بہتری اور سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کےلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام بہت کامیاب رہاہے۔ چیئر مین نیب نے کہا کہ نیب سارک ممالک کےلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے ‘ پاکستان سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے ‘ نیب نے بد عنوانی کے خاتمہ کےلئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کےلئے ملک بھر کے سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 55 ہزار سے زائد انجمنیں تشکیل دی گئی ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب نے وفاقی اور صوبائی اداروں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے کےلئے متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری قواعد و ضوابط کا جائزہ لے کر ان کی خامیاں دور کرنے کےلئے60 پری وینشن کمیٹیاں قائم کی ہیں‘ وفاقی سطح پر یہ پریوینشن کمیٹیاں سی ڈی اے ‘ وزارت مذہبی امور ‘ ایف بی آر ‘ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ( پی آئی ڈی ) جبکہ صوبائی سطح پر محکمہ صحت ‘ تعلیم ‘ ریونیو ‘ ہاﺅسنگ اور کوآپرٹیو میں قائم کی گئی ہیں جبکہ وزارت مذہبی امور میںنیب کی قائم کی گئی پریوینشن کمیٹی نے حج انتظامات کو بہتر بنانے اور حاجیوں کے مسائل کے حل کےلئے جو سفارشات تیارکیں ان پر وزارت مذہبی امور نے عملدرآمد کیا۔ انہوں نے کہاکہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے موثر نتائج سامنے آئے ہیں ‘ نیب کے مقدمات میں سزا کی شرخ 70 فیصد ہے جو وائٹ کالر کرائم کے خلاف کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے ۔

مزید خبریں