نیتن یاہو ہولناک نسل کشی کے معمار،فلسطینیوں بارے جھوٹ پھیلاتے ہیں، ظہران ممدانی

امریکا کے شہر نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نےاسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں براہ راست تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہیں ہولناک نسل کشی کا معمار قرار دیتے ہوئے ان پر فلسطینیوں کے خلاف جنگ بارے بے بنیاد جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران میئر …

اقوام متحدہ۔25ستمبر (اے پی پی):امریکا کے شہر نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ظہران ممدانی نےاسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں براہ راست تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہیں ہولناک نسل کشی کا معمار قرار دیتے ہوئے ان پر فلسطینیوں کے خلاف جنگ بارے بے بنیاد جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران میئر نیو یارک ظہران ممدانی کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’نیویارک کا یہود مخالف میئر‘‘ قرار دیا۔

نیتن یاہو نےبطور امیدوار میئر کی گزشتہ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اس وعدے کا بھی طنزیہ انداز میں حوالہ دیا کہ انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر ممدانی آپ نے مجھے یہاں آنے سے روکنے کی کوشش کی،آپ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں کرا سکتے۔ میئر نیو یارک ظہران ممدانی نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے سلسلے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کا سامنا ہے۔ ظہران ممدانی نے نیتن یاہو کو ’’ایک ہولناک نسل کشی کا معمار‘‘ قرار د یتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ غزہ کے انسانی بحران کو چھپانے کے لیے عالمی پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنی تقریر میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو صاف ستھرا دکھانے کے لیے بے بنیاد جھوٹ دہرائے۔

میئر نے نیتن یاہو کے جواب کو سوشل میڈیا پر براہِ راست شیئر کرنے کے بجائے اپنی سرکاری رہائش گاہ میں غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی خاندانوں کے ساتھ زیتون کا پودا لگانے کی تقریب کی وڈیو شیئر کی جس کے ساتھ لکھا کہ گزشتہ رات میں نے غزہ کے فلسطینی خاندانوں کے ساتھ گریسی مینشن میں زیتون کا درخت لگایا، دعا ہے کہ ہمارا مستقبل امن کا ہو۔

نیتن یاہو کی تقریر پر قطر نے بھی شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں قطر کو اسرائیل کی جنگ کے ’’آٹھویں محاذ‘‘ کا حصہ قرار د یتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل بارے جھوٹ پھیلاتا اور امریکی جامعات کو فنڈ فراہم کرتا ہے تاکہ نوجوان ذہنوں کو اسرائیل، امریکا اور مغرب سے نفرت کرنا سکھایا جا سکے۔اس کا جواب دیتے ہوئے قطری کے سینئر سفارت کار نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا آدھے سے بھی کم بھرے ہوئے ہال سےخطاب کرنا اس پیغام کی حمایت کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔

امریکا میں قطر کے نائب سفیر حماس المفتح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ قطر کو سیاسی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی جامعات کے لیے قطر کی مبینہ مالی معاونت بڑی حد تک دوحہ کے ایجوکیشن سٹی میں امریکی جامعات کے کیمپس چلانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جامعات اپنے تعلیمی پروگراموں کی ذمہ دار خود ہیں اور قطر ان کے امریکی کیمپس میں ہونے والے معاملات کا فیصلہ نہیں کرتا۔ ا ن کا کہنا تھا کہ قطر نے اسرائیل،فلسطینی عسکریت پسند تنظیم ، امریکا اور مصر کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے جبکہ امریکی حکام متعدد مرتبہ قطر ی ثالثی کو اہم یا ناگزیر قرار دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی اور داخلی سیاسی بحران کے اس انتہائی نازک وقت میں ثالثی کی مشکل ذمہ داری انجام دینے والے ممالک میں سے ایک کو نشانہ بنانا مسئلے کے حل میں کوئی مدد نہیں دیتا۔ ترکیہ نے بھی اسرائیلی وزیراعظم کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کیا۔صدارتی دفتر کے شعبہ مواصلات کے ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے اسرائیلی وزیراعظم کے الزامات کو اقوام متحدہ کی اقدار سے متصادم قرار دیا۔