نیدرلینڈز کی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی ،اسرائیل کا رام اللہ میں ڈچ سفارت کاروں کا سفارتی درجہ واپس لینے کا اعلان

نیدرلینڈز کی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی ،اسرائیل کا رام اللہ میں ڈچ سفارت کاروں کا سفارتی درجہ واپس لینے کا اعلان

مقبوضہ بیت المقدس ۔28ستمبر (اے پی پی):اسرائیل نے رام اللہ میں تعینات نیدرلینڈز کے سفارت کاروں کو حاصل سفارتی مراعات اور استثنا واپس لینے کا اعلان کر دیا، یہ اقدام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر نیدرلینڈز کی پابندی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ شنہوا کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے گزشتہ روز ایکس پر کہا کہ نیدرلینڈز کے سفارت کاروں کے پاس اسرائیل کی جانب سے جاری کردہ سفارتی دستاویزات واپس کرنے کے لیے سات دن ہیں، مدت کے اختتام پر اسرائیل کی جانب سے انہیں حاصل سفارتی مراعات اور استثناختم ہو جائیں گی۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک الگ بیان میں کہا کہ یہ اقدام گزشتہ ہفتے نیدرلینڈز کے اس حکم کے نافذ ہونے کے بعد کیا گیا ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی بستیوں نیز اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد اور فروخت پر پابندی عائد کی گئی ۔وزارت خارجہ نے کہا کہ اسرائیل نے گزشتہ ماہ نیدرلینڈز کے وفد کو جنوبی اسرائیل کے کریات گات میں غزہ کے لیے قائم امریکی قیادت والے رابطہ مرکز سے بھی ہٹا دیا تھا،یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں پر اسرائیل اور یورپی حکومتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق برطانیہ کے حالیہ اقدامات کے جواب میں بھی کئی جوابی اقدامات کا اعلان کیا تھا جن میں یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنا اور 12 برطانوی حکام کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی شامل تھی۔ اپریل میں اسرائیل نے غزہ کے رابطہ مرکز سے ہسپانوی نمائندوں کو بھی ہٹا دیا تھا اور اس کی وجہ سپین کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بار بار اختیار کیے جانے والے موقف کو قرار دیا تھا۔ فلسطینی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق مغربی کنارے میں 5 لاکھ سے زیادہ اسرائیلی آباد کار رہتے ہیں، اسرائیل نے اس علاقے پر 1967 میں قبضہ کیا تھا ۔

حالیہ برسوں میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور آباد کاروں اور اسرائیلی فورسز کے حملوں میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

 

مزید خبریں