نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کیلی گرافی کے قیام کے لئے باضابطہ سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے، عرفان صدیقی

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کیلی گرافی کے قیام کے لئے باضابطہ سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے، یہ سرکاری سرپرستی میں خطاطی کے فروغ اور تحفظ کے لئے ملکی تاریخ کا اولین ادارہ ہوگا، عرفان صدیقی اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے لئے وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ …

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کیلی گرافی کے قیام کے لئے باضابطہ سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے، یہ سرکاری سرپرستی میں خطاطی کے فروغ اور تحفظ کے لئے ملکی تاریخ کا اولین ادارہ ہوگا، عرفان صدیقی

اسلام آباد ۔ 13 ستمبر (اے پی پی) قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے لئے وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کیلی گرافی (قومی ادارئہ خطاطی) کے قیام کے لئے باضابطہ سمری وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھجوا دی گئی ہے جو سرکاری سرپرستی میں خطاطی کے فروغ اور تحفظ کے لئے ملکی تاریخ کااولین ادارہ ہوگا۔ یہ بات انہوں نے انسٹیٹیوٹ کے قیام کے حوالے سے بدھ کومنعقدہ ایک خصوصی اجلاس کے دوران بتائی۔ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں مجوزہ انسٹی ٹیوٹ کے قیام، اس کے فرائض اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں مشاورت کی گئی۔ عرفان صدیقی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خطاطی اسلامی فنون میں انتہائی اہم مقام رکھتی ہے جس کا آغاز قرآن کریم کے نزول سے شروع ہوا۔ گذشتہ 14صدیوں میں خطاطی کے فن نے کئی شکلیں اختیار کیں اور یہ فن آج بھی پوری اسلامی دنیا میں فروغ پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے گذشتہ 70برس کے دوران خطاطوں اور خطاطی کے فن کو حکومتی سرپرستی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے نہ صرف فن خطاطی کے نفاذ اور فروغ میں مدد ملے گی بلکہ یہ ادارہ خطاطوں کو درپیش مسائل حل کرنے اور ان کی ہر ممکن سرپرستی اور پزیرائی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے علمی، ادبی اور تاریخی اداروں نے زیادہ فعالیت کے ساتھ اپنے فرائض کی بجائے بجاآوری شروع کردی ہے جو نہایت خوش آئند ہے۔اجلاس میں وفاقی سیکرٹری قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن انجینئر عامر حسن، ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ افتخار عارف، جوائنٹ سیکرٹریز کیپٹن (ر) عبدالمجید نیازی، سید جنید اخلاق اور دیگر حکام شریک ہوئے۔

مزید خبریں

Leave a Reply