پاکستان کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت نے مالی سال27۔2026کا آغاز مضبوط کارکردگی کے ساتھ کیا ہے۔ جولائی 2026 میں پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو جولائی 2025کے 354 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہیں۔ ایک سال میں ٹیکنالوجی برآمدات میں 63 ملین ڈالر کا اضافہ اس شعبے کی مسلسل ترقی اور عالمی مارکیٹ میں …
پاکستان کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کا مالی سال 27۔2026 میں مضبوط آغاز، ٹیکنالوجی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):پاکستان کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت نے مالی سال27۔2026کا آغاز مضبوط کارکردگی کے ساتھ کیا ہے۔ جولائی 2026 میں پاکستان کی ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو جولائی 2025کے 354 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہیں۔ ایک سال میں ٹیکنالوجی برآمدات میں 63 ملین ڈالر کا اضافہ اس شعبے کی مسلسل ترقی اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی آئی ٹی سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق ٹیکنالوجی برآمدات میں مسلسل اضافہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے حوصلہ افزاء پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے کو مزید وسعت دے کر پاکستان نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے اعلیٰ مہارت اور بہتر روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔یہ مضبوط آغاز ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 26۔2025میں پہلے ہی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ مالی سال 26۔2025کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات 4.6 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال کے تقریباً 3.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 21 فیصدزیادہ ہے۔آئی ٹی شعبہ خدمات کی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ بن گیا،پاکستان کی مجموعی خدمات کی برآمدات بھی مالی سال 26۔2025میں تقریباً 10.02 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سروسز سب سے نمایاں شعبہ بن کر سامنے آئیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں آئی ٹی کا کردار روایتی خدمات اور اشیاء کی برآمدات کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
جولائی 2026میں مجموعی خدمات کی برآمدات بھی تقریباً 927 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ سال اسی ماہ کے 728 ملین ڈالر کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہیں۔ اس طرح جولائی میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز نے مجموعی خدمات کی برآمدات میں تقریباً نصف حصہ فراہم کیا۔گوگل کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی موجودگی ،پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم میں عالمی کمپنیوں کی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے تعاون سے پاکستان میں پہلی Chromebook اسمبلی لائن کا قیام مقامی ٹیکنالوجی اور ہارڈویئر مینوفیکچرنگ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ہری پور میں نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کی سہولت پر قائم اسمبلی لائن کی سالانہ پیداواری صلاحیت 5 لاکھ کروم بکس (Chromebooks) تک بتائی گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مقامی سطح پر ڈیجیٹل آلات کی تیاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان میں ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔
اس اقدام کی اہمیت صرف مقامی طلب پوری کرنے تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں Made-in-Pakistan ٹیکنالوجی مصنوعات کو علاقائی اور عالمی مارکیٹ تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔پاکستان طویل عرصے سے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فری لانسنگ اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کروم بک اسمبلی لائن جیسے منصوبے اس سفر کو سافٹ ویئر اور خدمات سے آگے بڑھا کر مقامی ہارڈویئر مینوفیکچرنگ، سپلائی چین، ٹیکنالوجی منتقلی اور برآمدی مصنوعات کی طرف لے جا سکتے ہیں۔حکومتی سطح پر بھی آئی ٹی شعبے کو برآمدی معیشت کا اہم ستون بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت آئی ٹی سیکٹر روڈ میپ سے متعلق اجلاس میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، آئی ٹی تربیت اور عالمی معیار کی مہارتوں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق مالی سال 26۔2025میں پاکستانی فری لانسرز نے بھی نمایاں زرمبادلہ ملک میں لایا۔
مالی سال27۔2026کے بجٹ میں آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس شعبے کے لیے مراعات اور معاون اقدامات کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ ٹیکنالوجی برآمد کنندگان کے لیے سازگار ٹیکس پالیسی، عالمی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سہولت اور آئی ٹی برآمدات کو فروغ دینے کے اقدامات کا مقصد پاکستانی کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں مزید مسابقتی بنانا ہے۔حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بہتری، براڈ بینڈ اور فائبر نیٹ ورک کے پھیلائو، ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور آئی ٹی تربیتی پروگراموں میں توسیع بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ جون 2026تک ملک میں فکسڈ براڈ بینڈ اور فائبر آپٹک کنکشنز کی تعداد 5.1 ملین گھرانوں تک پہنچ چکی تھی جبکہ موبائل سپیکٹرم میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان کے لیے آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافے کا انحصار صرف سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پر نہیں ہوگا بلکہ مصنوعی ذہانت، کلائوڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس، فن ٹیک اور دیگر اعلیٰ قدر کی ٹیکنالوجی خدمات میں مہارت حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا۔پاکستان کی نوجوان آبادی اس شعبے کے لیے ایک بڑی طاقت ہے۔ اگر نوجوانوں کو عالمی معیار کی ڈیجیٹل تعلیم اور عملی تربیت فراہم کی جائے، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنائی جائے اور عالمی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول مزید سازگار بنایا جائے تو پاکستان ٹیکنالوجی خدمات کی عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔جولائی 2026کے 417 ملین ڈالر کے اعداد و شمار اس بات کا اشارہ ہیں کہ مالی سال27۔2026میں ٹیکنالوجی برآمدات کے لیے بنیاد گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
اگر موجودہ رفتار برقرار رہتی ہے تو آئی ٹی شعبہ پاکستان کے لیے مزید اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاہم برآمدات میں پائیدار اضافے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، تیز رفتار انٹرنیٹ، فائیو جی، عالمی ادائیگیوں میں آسانی، وینچر کیپیٹل اور ٹیکنالوجی سرمایہ کاری، عالمی معیار کی تربیت اور کاروباری ماحول میں مزید بہتری ناگزیر ہوگی۔پاکستان کی ٹیکنالوجی معیشت اب صرف فری لانسنگ اور آئی ٹی سروسز تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مقامی مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاری، جدت اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کے وسیع تر ایکو سسٹم کی جانب بڑھ رہی ہے۔








