نیشنل ریسکیو چیلنج پاکستان بھر کے ریسکیور کو قومی پلیٹ فارم پر متحد کرتا ہے، رانا تنویر حسین

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہاہے کہ نیشنل ریسکیو چیلنج پاکستان بھر کی ایمرجنسی سروسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ بھائی چارے، اتحاد اور جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینے کا بہترین پلیٹ فارم ہے، جو موجودہ دور میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے

لاہور۔8اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہاہے کہ نیشنل ریسکیو چیلنج پاکستان بھر کی ایمرجنسی سروسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ بھائی چارے، اتحاد اور جذبہ حب الوطنی کو فروغ دینے کا بہترین پلیٹ فارم ہے، جو موجودہ دور میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔نیشنل ریسکیو چیلنج 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چیمپین ٹیم ریسکیو 1122 گوجرانوالہ ڈویژن، رنر اپ خیبر پختونخوا (پشاور) اور مختلف انفرادی مقابلوں میں کامیاب ہونے والے ریسکیورز کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ریسکیو چیلنج محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ مختلف صوبوں اور اداروں سے تعلق رکھنے والے ریسکیورز کے لیے تجربات، مہارتوں، بہترین عملی طریقہ کار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے تبادلے کا اہم پلیٹ فارم ہے، جس سے باہمی تعاون، موثر کوارڈینشن اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قدرتی آفات، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے پیش نظر موثر ڈیزاسٹر رسپانس اور متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ و تعاون ناگزیر ہے، مشکل حالات میں بالخصوص سیلاب میں ریسکیو 1122 نے لاکھوں انسانی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ ایک ریسکیور کی حقیقی کامیابی ٹرافی جیتنا نہیں بلکہ ایمرجنسی میں انسانی جانوں کو بچانا اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔

سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ 8 اکتوبر نیشنل ریزیلینئس ڈے کے موقع پر نیشنل ریسکیو چیلنج 2026 کا اختتام اس عزم کی تجدید ہے کہ تربیت یافتہ ریسکیورز، تیار کمیونٹیز اور مربوط ایمرجنسی سروسز ہی محفوظ اور مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ریسکیو چیلنج نے پاکستان بھر کے ریسکیو پروفیشنلز کو انسانیت کی خدمت کے ایک مشن پر متحد کیا اور ایمرجنسی سروسز اور ایمر جنسی پر وفیشنل کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا مو قع فراہم کیا۔ترجمان کے مطابق نیشنل ریسکیو چیلنج کی اختتا می تقریب ایمرجنسی سروسز اکیڈمی لاہور میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین تھے جبکہ تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب سنبل ملک حسین، وفاقی سیکرٹری واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی عزیز احمد جمالی، سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر، ڈائریکٹر ایمرجنسی سروسز، پنجاب ایمرجنسی سروس کے ضلعی افسران، دوسرے صوبوں و پنجاب کے زیر تربیت ریسکیوراور سول سوسائٹی سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان بھر سے 15 قومی ٹیموں نے 3 روزہ نیشنل ریسکیو چیلنج میں حصہ لیا،جس میں ٹراما مینجمنٹ، فائر فٹنس، کیبل کارٹ و بلندی سے ریسکیو، سوئمنگ چیلنج وواٹر ریسکیو اورڈیپ ویل ریسکیو کی حقیقت سے قریب تر ایکسر سائز شامل تھیں۔ ان تمام مقابلوں کو سینئر انسٹرکٹرز نے ایمرجنسی رسپانس کے عالمی معیار کے مطابق جانچا اور کارکردگی کی بنیاد پر تمام چیلنجز کے مجموعی سکور کو مدنظر رکھتے ہوئے چیمپین ٹیم اور رنر اپ پوزیشن کا تعین کیا جبکہ انفرادی مقابلہ جات میں بھی انہی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پوزیشن کااعلان کیا گیا۔ نیشنل ریسکیو چیلنج 2026 کی چیمپئن ٹیم کا اعز از گوجرانوالہ نے اوورآل بہتر ین کارکر دگی کے مظا ہرے سے کیا جبکہ خیبر پختونخوا (پشاور) کی ٹیم اوورآل دوسری پوزیشن کے ساتھ رنر اپ رہی۔ اس کے علاوہ مختلف انفرا دی مقا بلوں کی پو زیشن کا بھی اعلان کیا گیا جس میں گوجرانوالہ نے واٹر ریسکیو اورلیڈ فائرریسکیو کے فائر فٹ میں پہلی پوزیشن، خیبر پختونخوا (پشاور) نے فائر فائٹر فائر فٹ میں پہلی پو زیشن،ملتان نے ٹرامامیں پہلی، سندھ کی عبداللہ شاہ غازی ٹیم نے سوئمنگ، لاہور نے ڈیپ ویل ریسکیو چیلنجز میں پہلی جبکہ پہاولپور اور لاہور دونوں نے ہائٹ ریسکیو میں پہلی پو زیشن حاصل کی۔

تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کامیاب ٹیموں اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریسکیورز میں ٹرافی اور اسناد تقسیم کیں۔