نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے لیکچرر عمیر پرویز کا سلجوق یونیورسٹی ترکیہ میں پی ایچ ڈی مقالہ کا کامیاب دفاع

اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے لیکچرر عمیر پرویز نے سلجوق یونیورسٹی تر کیہ میں ”ہندوتوا اینڈ دی ٹرانسفارمیشن آف انڈین سٹریٹیجک کلچر“ کے موضوع پر اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات اور سٹریٹجک سٹڈیز کے میدان میں ایک اہم تعلیمی سنگ میل حاصل کیا ہے۔ تحقیق میں ہندوتوا کی نظریاتی بنیادوں اور ہندوستان کی اسٹریٹجک ثقافت کو تبدیل کرنے …

اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے لیکچرر عمیر پرویز نے سلجوق یونیورسٹی تر کیہ میں ”ہندوتوا اینڈ دی ٹرانسفارمیشن آف انڈین سٹریٹیجک کلچر“ کے موضوع پر اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات اور سٹریٹجک سٹڈیز کے میدان میں ایک اہم تعلیمی سنگ میل حاصل کیا ہے۔

تحقیق میں ہندوتوا کی نظریاتی بنیادوں اور ہندوستان کی اسٹریٹجک ثقافت کو تبدیل کرنے میں اس کے کردار کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ مطالعہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہندوتوا ہندوستانی معاشرے اور ریاستی ڈھانچے کے اندر بہت گہرا ادارہ بن چکا ہے ، اور اس کے نظریاتی اثرات بڑی حد تک ناقابل واپسی ہیں۔مقالہ کے نتائج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ تبدیلی پاکستان اور چین کے لیے خاص طور پر علاقائی استحکام، فوجی نظریے اور خارجہ پالیسی کے رویے کے تناظر میں اہم تزویراتی اور سلامتی کے اثرات کی حامل ہے۔

ڈاکٹر عمیر پرویز اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو ) اسلام آباد میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں بطور لیکچرار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے جنوبی ایشیائی سلامتی سے متعلق علمی اور پالیسی گفتگو میں فعال کردار ادا کیا ہے اور مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز پر تنازعہ کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کی جغرافیائی سیاسی اور انسانی جہتوں کو اجاگر کیا ہے۔ڈاکٹر عمیر نے اپنے تحقیقی سفر کے دوران انمول رہنمائی، تنقیدی بصیرت اور غیر متزلزل تعاون کے لیے اپنے سپروائزر ڈاکٹر نذیر آکیسلمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔

انہوں نے اپنے شریک سپروائزر اور سرپرست ڈاکٹر خرم اقبال سے بھی تہہ دل سے اظہار تشکر کیا جن کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے اس مطالعے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے قابل احترام اساتذہ، ساتھیوں اور دوستوں کے تعاون کا اعتراف کیا جنہوں نے علمی بات چیت اور تعمیری آراء کے ذریعے تعاون کیا۔ڈاکٹر عمیر پرویز نے ترکیہ کی حکومت سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مجھے سکالرشپ پر ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ واضح رہےکہ ڈاکٹر عمیر پرویز کی یہ کامیابی جنوبی ایشیائی اسٹریٹجک فکر میں نظریہ پر مبنی تبدیلی کو سمجھنے میں ایک اہم علمی شراکت کی نشاندہی کرتی ہے۔