برسلز۔24جنوری (اے پی پی):نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے اور ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈریکسن نے جمعے کے روز اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نیٹو کو دائرہ قطبی شمالی کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں مزید مضبوط کرنا ہوں گی۔العربیہ کے مطابق یہ اتفاق اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے …
نیٹو کا قطب شمالی کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ڈنمارک کے ساتھ معاہدے کا اعلان

مزید خبریں
برسلز۔24جنوری (اے پی پی):نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے اور ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈریکسن نے جمعے کے روز اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ نیٹو کو دائرہ قطبی شمالی کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں مزید مضبوط کرنا ہوں گی۔العربیہ کے مطابق یہ اتفاق اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا۔
مارک روٹے نے برسلز میں میٹے فریڈریکسن سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا کہ ہم نیٹو کے تمام ممالک کے امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور دائرہ قطبی شمالی میں دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے تعاون کو مزید آگے بڑھائیں گے۔
مارک روٹے سے ملاقات کے بعد میٹے فریڈریکسن نے ایک اور پیغام میں کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ نیٹو کو قطب شمالی میں اپنی شمولیت بڑھانی چاہیے اور قطبی شمالی کا دفاع اور سلامتی پورے اتحاد کے لیے ایک اہم معاملہ ہے۔
اس سے قبل مارک روٹے نے کہا تھا کہ گرین لینڈ کے بارے میں امریکہ کے ساتھ جاری بات چیت کا مقصد روس اور چین کو اس جزیرے اور قطبی شمالی کے ممالک تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ یہ جزیرہ ڈنمارک کی خود مختاری میں شامل ہے۔مارک روٹے نے وضاحت کی کہ ڈیووس میں ہونے والی اس بات چیت کا مقصد قطبی شمالی کے سات ممالک کی اجتماعی سلامتی کو روس اور چین کے مقابلے میں مشترکہ طور پر یقینی بنانا ہے۔
ان ممالک میں امریکہ، کینیڈا، ڈنمارک، آئس لینڈ، سویڈن، فن لینڈ اور ناروے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمتِ عملی اس بات پر مرکوز ہے کہ ہم سب مل کر یہ کیسے یقینی بنائیں کہ قطبی شمالی محفوظ رہے اور روسی اور چینی اثر و رسوخ سے باہر رہے۔







