اسلام آباد ۔ 22 نومبر (اے پی پی) وائٹ ہاﺅس کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں رواں سال کے دوران ریکارڈ اضافہ ہو گا۔ گذشتہ روز معمول کی پریس بریفنگ میں وائٹ ہاﺅس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری جوڈ ڈیری نے بتایا کہ گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے …
وائٹ ہاﺅس کے ترجمان کی پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 نومبر (اے پی پی) وائٹ ہاﺅس کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں رواں سال کے دوران ریکارڈ اضافہ ہو گا۔ گذشتہ روز معمول کی پریس بریفنگ میں وائٹ ہاﺅس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری جوڈ ڈیری نے بتایا کہ گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماﺅں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں رواں سال کے دوران ریکارڈ اضافہ ہو گا۔ واضح رہے کہ ایک روز قبلوزیراعظم عمران خان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت میں دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں مغوی مغربی شہریوں کی رہائی ایک مثبت پیش رفت ہے، پاکستان کو خوشی ہوئی ہے کہ رہا ہونے والے مغربی شہری محفوظ اور آزاد ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مثبت پیش رفت میں سہولیات فراہم کرنے پر پاکستان کی کوششوں پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے پر امن اور مستحکم افغانستان کے لئے افغانستان میں امن و مصالحتی عمل میں پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے اس مشترکہ ہدف کے حصول کے لئے کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 80 لاکھ سے زائد کشمیری شہریوں کے محاصرے کو 100 روز سے بھی زیادہ گزر گئے ہیں۔ وزیراعظم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حوالہ سے سرگرمیوں اور مصالحتی پیشکش کی تعریف کی اور اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ کے حل کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ نیویارک اور واشنگٹن میں گزشتہ ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے دونوں رہنماﺅں نے دوطرفہ تعاون اور کثیر الجہتی شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے باہمی قریبی رابطہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔








