عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی
ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن کو نئی رفتار دینے کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دےدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ، یہ معاونت کنیکٹڈ پنجاب پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی جس کا مقصد صوبے بھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی بڑھانا، سرکاری خدمات کو جدید ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنا اور نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پروگرام پاکستان کے قومی ڈیجیٹل وژن سے ہم آہنگ ہے اور وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت تیار کیے جانے والے قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا، اس کا بنیادی مقصد وفاقی سطح پر کی جانے والی ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پالیسیاں اور ٹیکنالوجی پنجاب کے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں تک موثر انداز میں پہنچانا ہے۔
بینک کے مطابق اس منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی آئی ڈی اے فنانسنگ پنجاب حکومت کے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی شراکتی فنڈز کے ساتھ مل کر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مجموعی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہوگی۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے بتایا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل رابطہ محض سہولت نہیں بلکہ ترقی، روزگار اور مساوی مواقع کی بنیاد بن چکا ہے ،وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا ہے، کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اس وژن کو صوبے کے کروڑوں شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا ذریعہ بنے گا۔انہوں نے بتایا کہ براڈبینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے سے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معیاری سرکاری خدمات تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
عالمی بینک کے مطابق پنجاب میں براڈبینڈ نیٹ ورک کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں ریگولیٹری پیچیدگیاں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں، اسی مقصد کے تحت پروگرام رائٹ آف وے کے اجازت ناموں کے حصول کا عمل نمایاں طور پر آسان بنائے گا۔ منصوبے کے مطابق اجازت نامے جاری کرنے کا اوسط دورانیہ موجودہ 90 دن سے کم کر کے صرف 21 دن تک لایا جائے گا، اس اقدام سے نجی شعبے کی جانب سے فائبر آپٹک اور دیگر براڈبینڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی خصوصاً ایسے شہری علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود یا ناکافی ہے۔پروگرام کے اہداف کے مطابق جون 2031ء تک پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی 78 لاکھ افراد سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی جس کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے شہری پہلی مرتبہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکیں گے، اسی عرصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی جانب سے کم از کم 5 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
منصوبے کا اہم حصہ پنجاب کے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ بھی ہے ،اس مقصد کے لیے حکومت کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری محکمے مصنوعی ذہانت پر مبنی خدمات تیار کر سکیں اور انہیں بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچایا جا سکے۔عالمی بینک کے مطابق اس اقدام سے جون 2031ء تک تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد جدید ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے پروگرام میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے ۔کنیکٹڈ پنجاب پروگرام کا ایک اور اہم مقصد صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنا ہے، اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا، ایسا مربوط ادائیگی کا نظام متعارف کرایا جائے گا جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کو ایک دوسرے سے منسلک کرے گا۔








