زبانی ہبہ ثابت کیے بغیر خواتین کو وراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا، صرف میوٹیشن یا طویل قبضہ ملکیت کا ثبوت نہیں،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ (Gift) کے ذریعے خواتین کے وراثتی حقوق ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے فریق پر لازم ہے کہ وہ ہبہ کی پیشکش، قبولیت اور قبضے کی حوالگی سمیت تمام قانونی تقاضے آزاد اور قابل اعتماد شواہد سے ثابت کرے۔

اسلام آباد۔1جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ (Gift) کے ذریعے خواتین کے وراثتی حقوق ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے فریق پر لازم ہے کہ وہ ہبہ کی پیشکش، قبولیت اور قبضے کی حوالگی سمیت تمام قانونی تقاضے آزاد اور قابل اعتماد شواہد سے ثابت کرے۔ محض ریونیو میوٹیشن، طویل قبضہ یا بعد کی ریونیو کارروائیاں ہبہ یا ملکیت کا ثبوت نہیں بنتیں۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق سپریم کورٹ نے یہ اہم قانونی اصول نور محمد و دیگر بنام غلام حیدر و دیگر کیس میں جاری تفصیلی فیصلے میں بیان کیا۔

جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے قرار دیا کہ جس فریق کو مبینہ ہبہ سے فائدہ پہنچا ہو، اسی پر اس کے قانونی ثبوت کا بوجھ عائد ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کے نتیجے میں بیوہ اور بیٹیوں کو ان کے شرعی اور قانونی وراثتی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہو۔عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ خواتین ورثاء کو یہ بتایا گیا ہو کہ مبینہ ہبہ کے نتیجے میں وہ ہمیشہ کے لیے اپنی ملکیتی حقوق سے محروم ہو جائیں گی یا انہوں نے مکمل آگاہی اور آزاد مرضی سے اپنے حقوق ترک کیے ہوں۔

سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ ماتحت عدالتوں نے غلطی سے 1955ء کی گفٹ میوٹیشن کو ہی ہبہ کا ثبوت تصور کر لیا، حالانکہ قانون کے مطابق میوٹیشن صرف مالیاتی اور ریونیو مقاصد کے لیے ہوتی ہے، اس سے نہ ملکیت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ختم ہوتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ بعد میں ہونے والی کنسولیڈیشن، تبادلہ اراضی، نجی تقسیم یا دیگر ریونیو اندراجات اس بات کا ثبوت نہیں بن سکتے کہ 1955ء میں واقعی ایک درست زبانی ہبہ ہوا تھا۔

اسی طرح صرف یہ حقیقت کہ ایک فریق عرصہ دراز سے زمین پر قابض رہا، ہبہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ وہ بطور شریک وارث پہلے ہی قبضے میں ہو سکتا تھا۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ شریک ورثاء میں ایک وارث کا قبضہ اصولی طور پر تمام ورثاء کا قبضہ تصور کیا جاتا ہے، جب تک دوسرے ورثاء کے حقوق سے واضح اور دوٹوک انکار ثابت نہ ہو۔ خواتین کے وراثتی حقوق اسلامی قانون اور عوامی پالیسی دونوں کے تحت خصوصی تحفظ کے مستحق ہیں۔سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو جعلی ہبوں، فرضی دستاویزات اور ریونیو ریکارڈ میں ردوبدل کے ذریعے وراثت سے محروم کرنے کی کوششوں کا عدالتیں سختی سے جائزہ لینے کی پابند ہیں اور محض مدت گزر جانے یا تکنیکی اعتراضات کی بنیاد پر ایسے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ مدت معیاد بعض مقدمات میں اہم ہو سکتی ہے تاہم سب سے پہلے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ جس زبانی ہبہ پر پورا دعویٰ قائم ہے، وہ قانون کے مطابق ثابت بھی ہوا ہے۔ اگر ہبہ ہی ثابت نہ ہو تو صرف پرانی میوٹیشن، طویل قبضے یا بعد کی ریونیو کارروائیوں کی بنیاد پر خواتین کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

 

مزید خبریں