وزارت انسانی حقوق نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 (2026۔ایچ آر۔این اے پی) کا باضابطہ اجراء کر دیا جو انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے حکومت پاکستان کے عزم اور مربوط قومی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایکشن پلان وزارت انسانی حقوق نے یورپی یونین کے ’’حقوق پاکستان۔ ‘‘II منصوبے کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔
وزارت انسانی حقوق نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کا باضابطہ اجراء کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):وزارت انسانی حقوق نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 (2026۔ایچ آر۔این اے پی) کا باضابطہ اجراء کر دیا جو انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے حکومت پاکستان کے عزم اور مربوط قومی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایکشن پلان وزارت انسانی حقوق نے یورپی یونین کے ’’حقوق پاکستان۔ ‘‘II منصوبے کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ تقریب رونمائی میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری، اراکینِ پارلیمان، سفارت کاروں، اعلیٰ سرکاری حکام، وفاقی و صوبائی اداروں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، جامعات، ترقیاتی شراکت داروں، اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔
تقریب میں 2026۔ایچ آر۔این اے پی کی باضابطہ رونمائی کی گئی جو سابقہ قومی ایکشن پلانز کی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے عملدرآمد میں موجود خلا اور انسانی حقوق سے متعلق ابھرتی ہوئی ترجیحات کا احاطہ کرتا ہے۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کا باضابطہ اجراء کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے انسانی حقوق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکشن پلان آئینی ضمانتوں کو موثر اور قابل پیمائش اقدامات میں ڈھالنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے جو قومی ترجیحات اور پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا ۔ انہوں نے ایکشن پلان کی تیاری میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، جامعات اور یو این ڈی پی پاکستان کے فعال کردار کو بھی سراہا۔اس موقع پر سیکریٹری وزارت انسانی حقوق عبدالخالق شیخ نے کہا کہ 2026۔ایچ آر۔این اے پی وزارت انسانی حقوق کی قیادت میں یورپی یونین کے حقوق پاکستان۔ II منصوبے کے تحت یو این ڈی پی کے اشتراک سے جاری ایک وسیع قومی مشاورتی عمل کا نتیجہ ہے۔
پاکستان کے تیسرے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق میں چھ موضوعاتی شعبوں اور 86 عملی اقدامات کو شامل کیا گیا ہے جن کا مقصد قانونی و پالیسی اصلاحات، کمزور طبقات کے تحفظ، انسانی حقوق سے متعلق آگاہی، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ اور ڈیجیٹل حقوق، قیدیوں کے حقوق اور موسمیاتی تبدیلی جیسے ابھرتے ہوئے موضوعات پر پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان میں یورپی یونین کے ناظم الامور فلپ اولیور گروس نے اپنے خطاب میں پاکستان کے ساتھ جمہوری طرز حکمرانی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے یورپی یونین کے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سمیت ہمارا تعاون بنیادی انسانی حقوق کے احترام پر مبنی ہے۔ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 واضح ذمہ داریوں اور قابل پیمائش اہداف پر مشتمل ایک موثر فریم ورک فراہم کرتا ہے جو موثر عملدرآمد اور احتساب کو فروغ دے گا۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)پاکستان کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزک نے حکومت پاکستان کے ساتھ ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کو موجودہ دور کے تقاضوں اور عوام کو درپیش نئے چیلنجز سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ یہ ایکشن پلان اسی وژن کی عکاسی کرتا ہے اور یو این ڈی پی وزارت انسانی حقوق اور اس کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس روڈ میپ کو عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک مربوط عملدرآمدی فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے قابل پیمائش اقدامات، بہتر بین الادارہ جاتی رابطے اور موثر نگرانی کے نظام کے ذریعے پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔








