وزارت خزانہ اورسٹیٹ بنک نے ایس ایم ایزکو ری فنانس سہولت کے ذریعہ قرضوں میں معاونت فراہم کرنے کے ضمن میں رسک شیئرنگ کا طریقہ کار متعارف کرادیا

اسلام آباد ۔ 6 مئی (اے پی پی) وزارت خزانہ اورسٹیٹ بنک آف پاکستان نے چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار(ایس ایم ایز) اورچھوٹے کاروبار کو سٹیٹ بنک کے ری فنانس سہولت کے ذریعہ قرضوں کی فراہمی میں معاونت فراہم کرنے کے ضمن میں رسک شئیرنگ کا طریقہ کارمتعارف کرادیا ہے، حکومت نے اس ضمن میں چاربرسوں پرمحیط عرصہ میں بنکوں کیلئے کریڈٹ رسک شئیرنگ فیسلٹی کے ضمن میں زرتلافی کیلئے …

اسلام آباد ۔ 6 مئی (اے پی پی) وزارت خزانہ اورسٹیٹ بنک آف پاکستان نے چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبار(ایس ایم ایز) اورچھوٹے کاروبار کو سٹیٹ بنک کے ری فنانس سہولت کے ذریعہ قرضوں کی فراہمی میں معاونت فراہم کرنے کے ضمن میں رسک شئیرنگ کا طریقہ کارمتعارف کرادیا ہے، حکومت نے اس ضمن میں چاربرسوں پرمحیط عرصہ میں بنکوں کیلئے کریڈٹ رسک شئیرنگ فیسلٹی کے ضمن میں زرتلافی کیلئے 30 ارب روپے مختص کردئیے ہیں۔وزارت خزانہ کی طرف سے منگل کویہاں جاری بیان کے مطابق ایس ایم ایز کیلئے ری فنانس سکیم کے مناسب اجتماعی اوربنک خطرات کے پیش نظر وزارت خزانہ بنکوں کے ساتھ رسک شئیرنگ میں اپناکرداراداکرے گی۔وفاقی حکومت نے چاربرسوں پرمحیط عرصہ میں بنکوں کیلئے کریڈٹ رسک شئیرنگ فیسیلیٹی کے ضمن میں 30 ارب روپے مختص کردئیے ہیں جو مستقبل میں کسی قسم کے بیڈ لونز سے ہونے والے نقصان کے ازالہ میں استعمال ہوں گے۔رسک شئیرنگ انتظامات کے تحت وفاقی حکومت قرضہ کے بنیادی حصہ (پرنسپل اماونٹ) میں 40 فیصد نقصان کا بوجھ اٹھائے گی۔اس سہولت سے بنکوں کوسٹیٹ بنک کے ری فنانس سکیم کے تحت 2 ارب سالانہ ٹرن اوور والے ایس ایم ایز وسمال کارپوریٹ یونٹس کو قرضوں کی فراہمی کی ترغیب ملے گی۔سٹیٹ بنک نے کوروناوائرس کی وباء اورلاک ڈاون کے تناظر میں ایس ایم ایز وچھوٹے کارپوریٹ یونٹس کے ملازمین کے روزگارکے تحفظ کیلئے ری فنانس سکیم متعارف کرایا ہے۔ اس سکیم کے تحت ان اداروںکو اپنے ملازمین کی تین ماہ تک تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے رعایتی قرضہ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہاہے کہ رسک شئیرنگ کاطریقہ کار وزارت خزانہ اورسٹیٹ بنک نے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرکی آراء کی روشنی میں متعارف کرایا ہے اوراس سے بنکوں کوایس ایم ایز کوقرضوں کی فراہمی کی ترغیب ملے گی ۔وزارت خزانہ کی جانب سے اس ضمن میں زرتلافی کی فوری منظوری سے کریڈٹ رسک شئیرنگ فیسلیٹی کا آغازممکن ہواہے اور اس ضمن میں سٹیٹ بنک نے سرکلرجاری کردیاہے۔ سٹیٹ بنک اس سکیم پرعمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔