جعلی واٹس ایپ اکائونٹس کے نیٹ ورک سے منسلک خاتون گرفتار، 310 سمز برآمد

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی شکایت پر درج مقدمہ میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی واٹس ایپ اکائونٹس کی تیاری اور غیر قانونی طور پر فعال موبائل سمز کی خرید و فروخت میں ملوث ایک خاتون کو گرفتار کر لیا

لاہور۔8جولائی (اے پی پی):نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی شکایت پر درج مقدمہ میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی واٹس ایپ اکائونٹس کی تیاری اور غیر قانونی طور پر فعال موبائل سمز کی خرید و فروخت میں ملوث ایک خاتون کو گرفتار کر لیا۔ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمہ صفیہ افضل ساہیوال کی رہائشی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمہ غیر قانونی ذرائع سے فعال موبائل سمز حاصل کر کے ان پر جعلی واٹس ایپ اکائونٹس تیار کرتی اور انہیں مختلف افراد کو فروخت کرتی تھی۔ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سرگرمی ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے انجام دی جا رہی تھی، جس کے ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر متعلقہ افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ کارروائی کے دوران ملزمہ کے قبضے سے مختلف موبائل نیٹ ورکس کی 310 فعال سمز اور ایک موبائل فون برآمد کیا گیا۔ تمام ڈیجیٹل شواہد کو فرانزک تجزیے اور تکنیکی جانچ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے تاکہ نیٹ ورک کے حجم، مالی روابط، ڈیجیٹل سرگرمیوں اور دیگر ممکنہ ملزمان کا تعین کیا جا سکے۔ملزمہ کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 (ترمیمی 2025) اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے کی تفتیش اس امر کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس نیٹ ورک کے روابط دیگر سائبر جرائم، آن لائن فراڈ یا شناخت کے غلط استعمال کے واقعات سے منسلک ہیں۔این سی سی آئی اے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ غیر قانونی سمز، جعلی ڈیجیٹل شناخت، آن لائن فراڈ اور دیگر سائبر جرائم میں ملوث افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی اور شواہد کے مطابق کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی تاکہ قومی ڈیجیٹل سکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے ۔