وزارت قانون وانصاف کی طرف سے آئین سازی کے حوالے سے رپورٹ جاری

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزارت قانون وانصاف نے سال 2020ءمیں قانون سازی کے حوالے سے جہاں کئی دیگر شعبوں میں کامیابیاں سمیٹیں وہاں خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی کے لئے بھی متعدد ایکٹ اور آرڈیننس کا نفاذ کیا گیا۔ وزارت قانون وانصاف کی طرف سے آئین سازی کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 2020ءمیں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے …

اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزارت قانون وانصاف نے سال 2020ءمیں قانون سازی کے حوالے سے جہاں کئی دیگر شعبوں میں کامیابیاں سمیٹیں وہاں خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی کے لئے بھی متعدد ایکٹ اور آرڈیننس کا نفاذ کیا گیا۔ وزارت قانون وانصاف کی طرف سے آئین سازی کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 2020ءمیں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کرکے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔وزارت قانون و انصاف کی جانب سے متعدد بلوں کا مسودہ تیار کرکے پارلیمنٹ بھجوایا گیا جہاں منظوری کے بعد باضابطہ آئین بن گئے۔ وزارت کی جانب سے بھجوائے گئے اہم بلز میں ”انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2020 “بھی شامل ہے جو ان معاملات میں خواتین کو بدسلوکی سے بچانے کے لئے قانون سازی کا ایک اہم حصہ ہے ۔یہ قانون خواتین کو ورارثت کا حق دینے اور ان کی جائیداد پر غیرقانونی قبضے کے خلاف دادرسی کا آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس قانون میں محتسب کو خواتین کو وراثت اور جائیداد کے مکمل مالکانہ حقوق فراہم کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے۔اسی طرح ”لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2020“ کی منظوری بھی وزارت کا اہم کارنامہ ہے۔ یہ ایکٹ خواتین اور بچوں کو فوجداری مقدمات میں مالی اور قانونی امداد فراہم کرے گا۔صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد سے نمٹنے کے لئے ایک اہم قدم ”اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020“کا نفاذ ہے ۔ اس آرڈیننس میں عصمت دری اور جنسی زیادتی جیسے جرائم کے خلاف خواتین کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اس آرڈیننس کے ذریعے خصوصی عدالتوں کا قیام اور خصوصی تفتیشی ٹیموں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو جنسی زیادتی کا شکار افراد کے مقدمات کی فوری سماعت اور متاثرین کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے قانونی امداد فراہم کریں گی۔سال 2020 ءکے دوران وزارت قانون وانصاف کی نمایاں کامیابیوں میں سے ”اینٹی منی لانڈرنگ (ترمیمی) ایکٹ 2020“ کی منظوری کے ساتھ ساتھ ”کوڈ آف سول پروسیجر (ترمیمی) ایکٹ 2020ء“،”لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفیکٹس ایکٹ 2020“،“کووڈ۔19 (پریوینشن اینڈ ہورڈنگ) آرڈیننس 2020ئ“اور ”کووڈ۔19 ((پریوینشن اینڈ سمگلنگ) آرڈیننس 2020“ بھی شامل ہیں۔ترجمان نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم اور ان کی ٹیم نے سال 2020ءکے دوران انتھک محنت کرکے 18 بلز اور 16 آرڈیننسز کی چھان بین اور تیاری کی جن کے نفاذ سے خواتین اور بچوں کو اپنے حقوق کے حصول اور زیادتی کے خلاف جلدازجلد انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔