اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے چین کے ساتھ سٹریٹجک معاشی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالخصوص زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں ایک سازگار، شفاف اور سرمایہ کار دوست ماحول یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پیر کو یہاں پاکستان-چین سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب …
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق چینی سرمایہ کاروں کی مکمل معاونت کے لیے پرعزم ہے، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کا پاکستان-چین سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے چین کے ساتھ سٹریٹجک معاشی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالخصوص زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں ایک سازگار، شفاف اور سرمایہ کار دوست ماحول یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پیر کو یہاں پاکستان-چین سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق چینی سرمایہ کاروں کی مکمل معاونت کے لیے پرعزم ہے جس میں ریگولیٹری امور میں سہولت فراہم کرنا اور تمام متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ موثر رابطہ کاری شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف سرمایہ کاری حاصل کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہے جہاں چینی کمپنیاں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ترقی کریں، جدت لائیں اور کامیاب ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور چین مل کر جدت کی نئی حدیں عبور کر سکتے ہیں، زرعی ٹیکنالوجی کو تبدیل کر سکتے ہیں، غذائی تحفظ کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور خطے کے معاشی منظرنامے کو بھی نئی شکل دے سکتے ہیں۔ انہوں نے جرات، عزم اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک سرمایہ کاری فورم نہیں بلکہ ایک ایسی دوستی کی تجدید ہے جو وقت کی کسوٹی پر پوری اتری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین صرف سٹریٹجک شراکت دار نہیں بلکہ آہنی بھائی ہیں۔ دوطرفہ معاشی تعلقات کی مضبوطی کو اجاگر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی چین کو برآمدات تقریباً 2.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات 16.3 ارب ڈالر رہیں جو عالمی معاشی دبائو کے باوجود دونوں جانب بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارکردگی چین-پاکستان آزاد تجارتی معاہدے (سی پی ایف ٹی اے) کے تحت لچک اور بڑھتے ہوئے مواقع کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک مرحلہ اول کی تکمیل اور سی پیک مرحلہ دوم کے آغاز سے صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، قابل تجدید توانائی اور عوامی فلاح پر مبنی ترقی کی جانب واضح پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 2025ء میں 41 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہوئے جن میں جدید کاشتکاری، لائیو سٹاک، ماہی گیری، زرعی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔یہ اقدامات محض منصوبے نہیں بلکہ ترقی اور باہمی اعتماد کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد پیداوار میں اضافہ، برآمدات کا فروغ، غذائی تحفظ کی مضبوطی اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ کانفرنس میں 119 چینی اور 191 پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی ہے جو نجی شعبے کی بھرپور دلچسپی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے اور 10 اہم شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا امکان ہے جن میں زراعت، فوڈ پروسیسنگ، لائیو سٹاک، ماہی گیری، زرعی مداخل، زرعی مشینری، قابل تجدید توانائی، لاجسٹکس، ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیڈ برآمدات شامل ہیں۔ اس موقع پر سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیف انجم نے کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ بالخصوص سی پیک مرحلہ دوئم کے تحت پاکستان-چین شراکت داری میں وسیع سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کم پیداوار، کمزور انفراسٹرکچر اور فصل کے بعد زیادہ نقصانات کو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی خلا ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویلیو ایڈیشن اور مشترکہ منصوبوں کے لیے وسیع مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے زرعی مداخل، زرعی مشینری، فوڈ پروسیسنگ، ڈیری اور گوشت کو ترجیحی ذیلی شعبے قرار دیا اور کہا کہ حکومتی اصلاحات، نئی پالیسیاں اور برآمدی پروٹوکول زراعت کو پائیدار معاشی ترقی کے کلیدی محرک کے طور پر از سر نو متعارف کرا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان (اے آئی جی پی) کے تحت حکومت کا ہدف پانچ سال میں زرعی برآمدات کو دگنا کرنا ہے۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کی ایڈیشنل سیکرٹری عرفہ اقبال نے کہا کہ پاکستان مربوط اصلاحات اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے خود کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مسابقتی اور سہولت فراہم کرنے والی منزل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے آزاد سرمایہ کاری نظام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تمام شعبے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھلے ہیں، منافع کی مکمل واپسی اور مقامی و غیر ملکی فنانسنگ تک رسائی بھی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری جسے چین نے فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا ہے، پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع، بڑی افرادی قوت اور وافر وسائل کے ساتھ مل کر بالخصوص زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی میں پائیدار سرمایہ کاری کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ آسان کاروبار فریم ورک کے تحت ریگولیٹری اصلاحات نافذ کر رہا ہے تاکہ طریقہ کار کی رکاوٹیں کم کی جا سکیں اور زراعت کو کاروبار میں آسانی کے لیے اہم شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری بورڈ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اینڈ ٹو اینڈ سہولت فراہم کرتا ہے جس میں ورک ویزا سفارشات، برانچ آفس منظوری، سیکورٹی کلیئرنس اور ایئرپورٹ انٹری پاسز وغیرہ شامل ہیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک عہدیدار نے کہا کہ بورڈ زرعی تجارت اور سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے موثر اقدامات پر پوری توجہ دے رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے مکمل طور پر ڈیجیٹل کسٹمز درآمد و برآمد طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس سے کلیئرنس کا وقت نمایاں طور پر کم اور شفافیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیج، کھاد، زرعی ادویات اور زرعی مشینری پر زیرو کسٹمز ڈیوٹی کی مراعات پیداوار میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جبکہ برآمدی سہولت سکیمیں اور سادہ ریگولیٹری عمل زرعی برآمد کنندگان کو مسابقت بڑھانے اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ میں مدد دے رہے ہیں۔








