وزارت منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات کا ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال 27-2026 کےلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام جاری

وزارت منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات نے ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال 27-2026 کےلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام( اے ڈی پی ) جاری کیا ہے۔ جمعہ کو یہاں جاری اے ڈی پی کے مطابق پروگرام میں میکرو اکنامک فریم ورک کی ترقی ، سرمایہ کاری اور بچتوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کےلئے مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی ) کی شرح …

اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وزارت منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات نے ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال 27-2026 کےلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام( اے ڈی پی ) جاری کیا ہے۔ جمعہ کو یہاں جاری اے ڈی پی کے مطابق پروگرام میں میکرو اکنامک فریم ورک کی ترقی ، سرمایہ کاری اور بچتوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کےلئے مجموعی قومی پیداوار( جی ڈی پی ) کی شرح نموکےلئے 4فیصد کا ہدف مقرر کیا ہےجبکہ زراعت کے شعبہ کےلئے شرح نمو 3.6فیصد ، صنعت کےلئے 4.5فیصد اورخدمات کےشعبہ کےلئے 4.2فیصد کی شرح نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اے ڈی پی کے مطابق جاری مالی سال کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 7.1فیصد رہی جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران افراط زر8.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ مزید برآں جی ڈی پی کے مقابلے میں سرمایہ کاری کا ہدف 15فیصد جبکہ بچتوں کا ہدف 14.3فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں آئندہ مالی سال کےلئے حسابات جاریہ کا خسارہ 3.6ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے جو جی ڈی پی کے 0.70فیصدکے مساوی ہوگا جبکہ اس دوران مختلف مصنوعات کا برآمدی ہدف 32.9ارب ڈالر اور خدمات کے شعبہ کی برآمدات کا ہدف 11.3ارب ڈالر مقرر کیاگیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران مجموعی قومی درآمدات 83.8ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے جس میں مصنوعات کی درآمدات 70ارب جبکہ خدمات کی درآمدات 13.8ارب ڈالر متوقع ہیں ۔ اے ڈی پی کے تحت آئندہ مالی سال میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے 42.4ارب ڈالر کی ترسیلاب زر متوقع ہیں ۔ آئندہ مالی سال کےلئے قومی اقتصادی کونسل نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی ہے جس کا حجم 3675ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ مجموعی ترقیاتی پروگرام میں وفاق کا حصہ451 ارب روپے ،صوبوں کا حصہ 2224 ارب روپے جبکہ حکومتی ملکیتی اداروں کا حصہ ایک ہزار ارب روپے مقررکیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں آئندہ مالی سال کے لئے بنیادی ڈھانچے کا تجویز ترقیاتی بجٹ 603ارب روپے ، سماجی شعبے کےلئے 181ارب روپے ، گورننس کےلئے 13 ارب ، سائنس و ٹیکنالوجی 41 ارب،خصوصی علاقوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان 89 ارب ، ضم شدہ اضلا ع کےلئے 56ارب، پیداوار ی شعبہ کےلئے 13ار ب روپے اور متفرق شعبہ جات کےلئے 5ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

اے ڈی پی کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران کوئٹہ کراچی شاہراہ این 25کی تعمیرکےلئے 100ارب روپے ، سکھر حیدرآباد موٹر وے ایم 6کی تعمیرکےلئے 30 ارب ، پاکستان ریلویزکی اپ گریڈیشن ایم ایل ون منصوبہ کےلئے 25ارب روپے ، سندھ کوسٹل ہائی وے کی تعمیرو توسیع کےلئے 25ارب ، نوابشاہ تا راجن پور میران ہائی وے کو دو رویہ کرنے کے منصوبے کےلئے 21اارب روپے ، سانگھڑ سے این فائیو تک شاہراہ کی بہتری کےلئے 13ا رب ، مورو تا راجن پور این فائیوکی بحالی و تعمیرکےلئے 9 ارب، مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کےلئے 26ارب، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 21ارب ، بلوچستان میں سیلاب سے بحالی کےلئے 17 ارب ،دانش سکولوں کی تعمیرکےلئے 22ارب اور وزیراعظم یوتھ پروگرام کےلئے 18ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کےلئے بھی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال 27-2026کے لئے مینوفیکچرنگ کے شعبہ کی شرح نمو کا ہدف 5.7فیصد جبکہ بڑے صنعتی اداروں کے شعبہ کےلئے 5فیصد کی شرح نمو کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وفاقی حکومت نے بلیو اکانومی سے استفادہ کےلئے آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہازوں کو 30 تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ کورنگی فش ہاربر میں برآمدات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کےلئے 1.048ارب ، کے ایس اینڈ ای وی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کےلئے 10.69ارب روپے اور گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی جدید کاری کےلئے 12.9ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا ہے۔ واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کےدوران آف شورتیل و گیس کی تلاش کے 23 مختلف بلاکس کو آپریشنل کیا جائے گا۔سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی برآمدات کےلئے 7.3ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور کنیکٹویٹی کے مختلف منصوبوں سے سالانہ 60ملین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ ساتھ 7500افراد کے لئے ملازمت کے مواقع بھی پیدا کئے جائیں گے ۔ وفاقی حکومت ڈیجیٹل گورننس اور خدمات کی بہتری کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنائے گی۔

اسی طرح مہارتوں میں اضافہ اور روزگار کی فراہمی کے فروغ کےلئے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت 3737مختلف تربیتی پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا جس کا مقصد 25ہزار سے زائد روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ہائیرایجوکیشن ، سائنس و ٹیکنالوجی پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی اور اس حوالے سے آئندہ مالی سال کےدوران ایچ ای سی کا بجٹ 46ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کےلئے 3.567ارب روپے ، 637چھوٹے اوردرمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا قیام اورسٹیم کٹس ٹارگٹ کا ہدف 150مقررکیا گیا ہے۔ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 11.33ملین نئے درخت لگائے جائیں گے جبکہ 23775گرین جابز بھی پیدا کی جائیں گی۔ غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کےلئے آئندہ مالی سال کے دوران زراعت ، گلہ بانی ، ماہی گیری اور جنگلات کے شعبہ کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکو ز کی جائے گی۔ اسی طرح توانائی اوربنیادی ڈھانچے کے حوالے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام 27-2026کے تحت 151258.945ملین روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ اڑان پاکستان پروگرام کے تحت 2030تک متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو 30فیصد تک فروغ دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ قومی گرڈ میں 3787میگاواٹ شفاف توانائی بھی شامل کی جائے گی۔ اے ڈی پی میں آئندہ مالی سال کے دوران آبی وسائل کے شعبہ کی ترقی کےلئے 74.920ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے جس کے تحت پانی کی دستیابی کو63.5ملین ایکڑ سے 84.2ملین ایکڑ تک بڑھایا جائے گا جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کو13.5ملین ایکڑ فٹ سے 23.5ملین ایکڑ فٹ تک توسیع دی جائے گی جبکہ آبی وسائل سے استفادہ کی شرح کو40فیصد سے 70فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ پائیدار ٹرانسپورٹ اور مواصلا ت کے بنیادی ڈھانچہ کے حوالے سے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کےلئے 400ارب روپے کا ہدف مختص کیا گیا ہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مختلف منصوبوں کی بروقت اور تیز تر تکمیل کےلئے ان منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور بلٹ آپریٹ اینڈ ٹرانسفر اقدامات کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔

اسی طرح تھا کوٹ تا رائے کوٹ کے قراقرم ہائی وے منصوبہ کے آغاز کے ساتھ ساتھ ایم 6 ، این 25،ایم 8،ایم ایل ون ، ایم ایل 3 اور سمبڑیال کھاریاں لنک منصوبوں کو بھی مکمل کیا جائے گا۔پائیدار شہری ترقی اور ہائوسنگ کے شعبہ کی ترقی کےلئے آئندہ مالی سال کے دوران پی ایس ڈی کے لئے 55ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس کے تحت بڑے شہروں میں جی آئی ایس پرمشتمل ڈیجیٹل ماسٹر پلانز کی تیاری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک لاکھ 50ہزار گھروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی کی دستیابی اورنکاسی آب کی بہتری پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اے ڈی پی کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہدار ی اور خصوصی اقدامات کے تحت آئندہ مالی سال کے دوران چین سے صنعتوں کی منتقلی کے فروغ اور برآمدات میں اضافہ کےلئے سرمایہ کاری ، لاجسٹک اور معدنیات کے علاقائی رابطوں میں اضافہ، گوادر پورٹ اور فری اکنامک زونز کو آپریشنل کرنے کے ساتھ ساتھ گرین اینڈ ڈیجیٹل اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اے ڈی پی کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران صحت ، نیوٹریشن ، بنیادی اور ثانوی تعلیم ، روزگار کے مواقعوں کی فراہمی میں اضافہ اور مہارتوں کی ترقی کے ساتھ ساتھ پائیدار متوازن ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ کم ترقی یافتہ علاقوں میں سہولتوں کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے۔ مزید برآں غربت کے خاتمے اور سماجی ترقی کے اقدامات کے تحت آئندہ مالی سال کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کفالت کوریج کا ہدف 10.2ملین تک بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ بی آئی ایس پی کے ہمدرد پروگرام کے ساتھ ساتھ پی جی ای پی منصوبہ کےتحت 76676گھرانوں کو پیداواری اثاثہ جات کی فراہمی اور 51185افراد کومختلف مہارتوں کی تربیت فراہم کی جائےگی۔ اسی طرح پاکستان پاورٹی ایلیویشن کے تحت 86ہزار افراد کو بلا سود قرضہ فراہم کرنے کا ہدف مقررکیا گیا ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے کے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کے حامل 80مختلف منصوبے بھی مکمل کئے جائیں گے ۔ گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں خصوصی اقدامات کو یقینی بنایاجائے گا۔