وزارت منصوبہ بندی کی افراط زر کے حوالہ سے شائع خبر کی سختی سے تردید

اسلام آباد ۔ 7 فروری (اے پی پی) وزارت منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں افراط زر کے حوالہ سے شائع ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں میں غلط تاثر دیا گیا ہے کہ افراط زر کی شرح کو کم رپورٹ گیا ہے۔ اعداد و شمار بیورو (پی بی ایس) کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے …

اسلام آباد ۔ 7 فروری (اے پی پی) وزارت منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں افراط زر کے حوالہ سے شائع ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں میں غلط تاثر دیا گیا ہے کہ افراط زر کی شرح کو کم رپورٹ گیا ہے۔ اعداد و شمار بیورو (پی بی ایس) کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اعدادوشمار سے متعلق مختلف ریسرچ کا تخمینہ تقریباً 13 فیصد تھا جبکہ پی بی ایس کے ذریعہ جنوری 2019ءکے دوران مرتب کردہ افراط زر کا اندازہ اس سے کہیں زیادہ (14.6 فیصد) ہے۔ اس سے قیمتوں کے اعدادوشمار کی تالیف اور اشاعت میں پی بی ایس کی غیر جانبداری ظاہر ہوتی ہے۔ پی بی ایس نے بتایا کہ اس نے اعداد و شمار جمع کرنے کے لئے باقاعدہ طریقہ کار پر عمل کیا اور یہ افراط زر زیادہ ہے کیونکہ قیمتیں ماہ کے وسط میں عام طور سے زیادہ ہیں۔ مزید برآں پی بی ایس نے واضح کیا کہ جہاں تک گندم کے آٹے کی اوسط قیمت کا تعلق ہے تو یہ مختلف شہروں میں دستیابی کے مطابق مختلف قیمتوں پر دستیاب سے ہے۔ مختلف شہروں میں 47 کلو آٹے کی قیمت 800 سے 1200 روپے تک ہے۔ پنجاب میں قیمتیں اوسطاً 40 روپے فی کلو تھیں جبکہ کراچی میں یہ سب سے زیادہ تھیں۔ پی بی ایس کی ویب سائٹ پر 51 ضروری اشیا کی شہر کے مطابق قیمتیں دی گئی ہیں۔ یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ پنجاب میں 20 کلوگرام گندم کے آٹے کی اوسط قیمت 800 سے 942 روپے ہے جہاں حکومت کا کنٹرول اور نجی آٹا دونوں ہی مارکیٹ میں دستیاب ہیں جبکہ کے پی کے، سندھ اور بلوچستان میں 20 کلو گندم کے آٹے کی اوسط قیمت 1000 روپے سے لے کر 1200 روپے ہے۔کرائے میں 5 فیصد اضافے کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ چھوٹے اور بڑے ہاو¿سنگ یونٹوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کرایے کی قیمتیں سہ ماہی کی بنیاد پر اکٹھی کی جاتی ہیں اور وزن کی اوسط نقطہ نظر کی بنیاد پراس کرائے کاحساب لگایا جاتاہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سہ ماہی میں ہر سال کرایوں میں اضافہ 5.63 فیصد ہے۔ یہ اضافہ نیچے دیئے گئے تاریخی اعدادوشمار کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ تاہم ، یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ماہ کرایہ بڑھتا ہو۔جولائی 17میں 6.27فی صد،اکتوبر17میں 5.89فی صد، جنوری 18میں 4.26فی صد،اپریل 18میں 5.42فی صد،جولائی18میں 5.89فی صد،اکتوبر 18میں 7.06فی صد، جنوری 19میں 6.34فی صد،اپریل 19میں 6.29فی صد،جولائی19میں 6.46فی صد،اکتوبر19میں 5.02فی صداور جنوری 2020ء میں 5.63فی صد تھا۔یہ مزید واضح کیا گیا ہے کہ پی بی ایس ، اینڈرائیڈ ٹیکنالوجی پر مبنی جی پی ایس سے لیس آلات سے قیمتوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے جس میں قیمتوں کا ڈیٹا اکھٹا کرنا ، توثیق کرنا اور بہترین عالمی معیار کے مطابق اشاعت کرنا شامل ہے ، پی بی ایس بغیر کسی سیاسی مداخلت یا محرک کے اعدادو شمار کو مرتب کرتا ہے اور شہر کے حساب سے قیمتوں کے اعدادو شمار کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے ، لہذا اعدادو شمار کی ہیرا بھیری ناممکن ہے۔